سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 202
کرتا ہوں۔میں نہیں چاہتا کہ تم میں ایسی باتیں پیدا ہوں جو تنازع کا موجب ہوں۔تم کو کیا معلوم ہے کہ قوم میں تفرقہ کے خیال سے بھی میرے دل پر کیا گزرتی ہے ؟ تم اس درد سے واقف نہیں۔تم اس تکلیف کا احساس نہیں رکھتے جو مجھے ہوتی ہے۔میں یہ چاہتا ہوں اور خدا ہی کے فضل سے یہ ہو گیا کہ میں تمہارے اندر کسی قسم کے تنازعہ اور تفرقہ کی بات نہ سنوں بلکہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھوں کہ تم اللہ تعالٰی کے اس ارشاد کا عملی نمونہ ہو : واعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا میں پھر تمہیں کہتا ہوں جو سُنتا ہے وہ سُن لے اور دوسروں کو پہنچا دے کہ جھگڑا مت کرو۔ہم مر جائیں گے پھر تمہیں بہت سے موقعے جھگڑنے کے ہیں تم سمجھتے ہو میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرح آسانی سے خلیفہ بن گیا ہوں ؟ تم اس حقیقت کو سمجھ نہیں سکتے اور نہ اس دکھ کا اندازہ کر سکتے ہو اور نہ اس بوجھ کو سمجھ سکتے ہو جو مجھ پر رکھا گیا ہے۔یہ خدا کا فضل ہے کہ میں اس بوجھ کو برداشت کر سکا تم میں سے کوئی بھی نہیں جو اس کو برداشت تو ایک طرف محسوس بھی کر سکے۔کیا وہ شخص جس کے ساتھ لاکھوں انسانوں کا تعلق ہو آرام کی نیند سو سکتا ہے نیز فرمایا : ور میں اس مسجد میں قرآن کریم ہاتھ میں لے کر اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے پر بننے کی ہرگز خواہش نہیں اور نہ تھی اور قطعا خواہش نہ تھی۔خدا تعالیٰ کے منشا کو کون جان سکتا ہے۔اس نے جو چاہا کیا۔تم سب کو پکڑ کر میرے ہاتھ پر جمع کر دیا اور اس نے آپ نہ تم میں سے کسی نے مجھے خلافت کا کتا پہنا دیا۔میں اس کی عزت اور ادب کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں باوجود اس کے میں تمہارے مال اور تمہاری کسی بات کا بھی روادار نہیں اور میرے دل میں اتنی بھی خواہش نہیں کہ کوئی مجھے سلام کرتا ہے یا کے بدر قادیان ۲۵ جنوری شاه مت