سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 201 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 201

اس مجلس کے قواعد میں ایک اہم مشق یہ بھی تھی کہ : اس مجلس کے ممبر خصوصیت سے حضرت خلیفہ ایسیح کی فرمانبرداری کا خیال رکھیں۔۔۔افسوس ! که ی تنبیهات بعض بیمار دلوں پر اثرانداز نہ ہوسکیں بلکہ جوں جوں حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ کی عمر بڑھتی اور صحت گرتی رہی مخالفین خلافت کو یہ فکر بھی دامنگیہ ہو نے لگا کہ اگر خلافت کا نظام جاری رہا تو مبادا مرزا محمود احمدی کو جماعت اپنا خلیفہ منتخب کرلے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی اطاعت کا جوآ تو جوں توں بہایا جا رہا تھا لیکن ایک کم عمر نوجوان کی اطلاعات کو قبول کرنا بعض ایسے علماء اور اکابرین کے لئے بہت مشکل تھا جو انجمن کے ممبر ہونے کی وجہ سے اپنے تین بہت بلند و بالا خیال کرنے لگے تھے عمر کے ظاہری تفاوت نے مزید مہمیز کا کام دیا اور بڑی بڑی دنیوی ڈگریوں کا غرور اور بھی سیخ پانی کا موجب بنا۔انہیں اپنے سامنے ایک ایسا کم عمر بچہ نظر آرہا تھا جو اگرچہ دنیوی تعلیم کے زیور سے آراستہ نہ تھا لیکن اس کی دینی خدمات اور علم قرآن اور عقل و فراست کا شہرہ اس شرعت اور وسعت کے ساتھ پھیل رہا تھا کہ حاسدین کے دل اس خوف سے لرزاں تھے کہ اگر حضرت خلیفہ اول کے وصال کے بعد حسب دستور جماعت کے نئے خلیفہ کا انتخاب ہوا تو اس نوجوان کے سوا جماعت کی نظر انتخاب کسی اور پر نہیں پڑے گی۔ان حالات کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ ایک باقاعدہ اور منظم سازش کے ذریعہ نظام خلافت کو سبو تاژ کرنے کی کوششیں ایک دفعہ پھر تیز تر کر دی گئیں اور وہ عہد بعت جس کی تجدید دو سال قبل م مبارک کے صحن میں کی گئی تھی، ایک مرتبہ پھر بالائے طاق رکھ دیا گیا۔اور بعینہ اس خبر کے موافق جو حضرت صاحبزادہ صاحب کو رویا میں دی گئی تھی ، مقام خلافت کے بارہ میں ایسی گستاخانہ باتیں دہرائی جانے لگیں جن کے نتیجہ میں لازماً تفرقہ اور نفاق کا بیج بویا جاتا۔جب یہ دل آزار باتیں حضرت اقدس خلیفہ المسیح الاول کے کانوں تک پہنچیں تو آپ نے جلسہ سالانہ دسمبر بار کے موقع پر جماعت کو اس بارہ میں نهایت دردمندانہ اور پاک نصائح فرمائیں اور مقام خلافت کو خوب کھول کھول کر حاضرین جلسہ پر واضح فرما دیا۔آپ نے فرمایا :- "میں خلیفہ المسیح ہوں۔اور خُدا نے مجھے بنایا ہے، میری کوئی خواہش اور آرزو نہ تھی اور کبھی نہ تھی۔اب جب خدا تعالیٰ نے مجھے یہ ہدا پہنا دی ہے میں ان جھگڑوں کو نا پسند کرتا ہوں اور سخت ناپسند له "بدر" قادیان ۲۳ فروری "