سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 170 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 170

مالی قربانی کے علاوہ جانی قربانی کا بھی اس رنگ میں مطالبہ کیا جار ہا تھا کہ مخلصین جماعت اشاعت اسلام کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کریں۔چنانچہ اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے بہت سی سعید رو میں نذر جاں لئے ہوئے قادیان میں حاضر ہو رہی تھیں ایک اور انقلاب آفریں نظام جو حضرت مرزا صاحب علیہ السلام نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں جماعت احمدیہ کو عطا فرمایا نظام وحیت تھا۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے رویا میں ایک ایسا مقبرہ دکھایا جس میں آپ کے علاوہ آپ کے ایسے متبعین نے دفن ہونے کی توفیق پانی تھی جو تقویٰ اور طہارت کے اعلی مقام پر فائز ہوں اور اسلام کے عالمگیر جہاد کی خاطر قربانی کا ایسا شاندار نمونہ پیش کرنے والے ہوں کہ تازندگی اپنی آمد کا کم از کم بر حصہ خدمت دین کے لئے پیش کریں اور یہ وصیت کریں کہ اُن کی وفات کے بعد اُن کی جائیداد کا کم از کم بار حصہ جماعت احمدیہ کو اس مرض سے پیش کر دیا جائیگا کہ اسے خدمت دین محمد پر خرچ کیا جائے۔چنانچہ اس منشائے الہی کی تعمیل میں آپ نے نظام وصیت کی بنیاد رکھی۔یہ تمام امور بڑے امید افزا تھے اور اس کلماتی کونپل میں ایک عظیم شجرہ طیبہ کی جھلک ہر صاحب فراست کو نظر آرہی تھی۔اس پر احمدیت کے نقطہ نگاہ سے ایک بہت ہی باعث تسکین امر یہ تھا کہ جس موعود بیٹے کی خبر دے کر اس کی ترقی کے ساتھ احمدیت اور اسلام کی ترقی وابستہ کی گئی تھی وہ زندہ صحت و عافیت کے ساتھ صحیح جنگ میں تربیت پاتا ہوا ایسے راستہ پر چل پڑا تھا جس کا رخ پہلے سے مقرر کردہ مقصود کی جانب تھا۔احمدیت اس مقام سے گزر رہی تھی جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وصال ہوا اور اس اچانک صدمہ کے نتیجہ میں الا ماشا اللہ اکثر مخلصین جماعت بشری تقاضے کے ماتحت گھبرا گئے اور سخت پریشان ہو گئے کہ اس عظیم آسمانی وجود کی جدائی کے بعد اب اس جماعت کا کیا بنے گا جو اس کے سایہ عاطفت کے نیچے پرورش پا رہی تھی۔یہی وہ وقت تھا جب کہ مخالفین جماعت کی میدوں میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔لیکن اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو دونوں جماعتوں کے جذبات میں بعد المشرقین ہونے کے باوجود زبانِ حال سے دونوں کا فیصلہ ایک ہی تھا کہ جب تک حضرت مرزا صاحب زندہ تھے آپ کی قیادت وسیادت کی عظمت کے نتیجہ میں آپ کے مشن کا کوئی بال بیکا نہ کر سکتا تھا لیکن آپ کے وصال کے بعد دشمنوں کے لئے نقصان دہی کے مواقع اور دوستوں کیلئے خطرات کے آثار پیدا ہو گئے تھے۔دوسرے لفظوں میں احمدیت کے دشمنوں اور محبتوں دونوں ہی نے مذکورہ بالا ہے اختیار