سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 140 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 140

۱۴۰ اکثر آشوب چشم بھی ہو جاتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پڑھائی کے لئے کبھی بھی نہیں کہا کہ محنت کرو وغیرہ گر ابتدا سے اپنی دینی کتب قرآن مجید حدیث اور دیگر مذاہب کی کتابیں اور الف لیلہ بھی مجھے بھی چھوٹی چھوٹی کہانیاں الف لیلہ کی بھی سُنا دیتے تھے۔دیوان غالب وغیرہ اور آپ کے استاد ( جن سے کچھ عرصہ اصلاح لی تھی شاعری کے سلسلہ میں ) جلال لکھنوی کے دیوان بھی آپ کے پاس تھے۔میری ہوش میں بہت کم عمری سے میں نے بڑے بھائی (حضرت مصلح موعودہؓ) کا کمرہ الگ دیکھا جس میں کتابیں رکھی رہتی تھیں میز پر میں بھی وہاں جا پہنچتی تھی آپ گھر کھیلتے تھے۔اکثر وقت پا کر جو خالی صحن ہوا اس میں گیند بلا وغیرہ اور اس کے علاوہ گھر کے باہر آپ کے مشاغل خلیل سے نشانه بازی کشتی چلانا تیرنا وغیرہ تھے۔مٹی کے غلے بنانے میں ہم۔شریک ہو جاتے مگر گھر میں نہیں چلاتے تھے۔یہ کام باہر ہوتا تھا۔گھر میں تو کبھی نشان لگا کر غلیل جلا کر دیکھ لیا اور اس سے ذرا بڑے ہوئے تو سواری سیکھی اور گھوڑے کی سواری کو بہت پسند کرتے تھے۔آپ ہم بچوں سے بہت پیار کرنے والے بے حد خیال رکھنے والے تھے، مجھے تو خاص طور پر بہت محبت کی بہت ناز اُٹھاتے کبھی خفا ہونا یاد میں نہیں۔ایک بار لڑکیوں کے ساتھ میں کھیل رہی تھی۔لڑکیوں نے کوئی کھیل تالی بجانے والا کھیلا۔میں بھی بجانے لگی تو مجھے کا کھیلو مگر تم نہ کبھی تالی بجانا۔یہ لوگ بجایا کریں۔مبارک سے بھی بہت پیار کا سلوک تھا ( ایک خط میں حضرت میسج موعود علیہ السلام نے میرے میاں کو لکھا ہے محمود اپنی والدہ سے بہت مانوس ہے اور مبارک سے بھی اب تک کھیلتا ہے۔ابھی بچہ ہی ہے ) دو مرے بھائیوں سے بھی کبھی میں نے سختی کا سلوک یا جھگڑا نہیں دیکھا۔منجھلے بھائی صاحب سے تو اکثر لمبی باتیں کرتے مگر ہر وقت اچھے موضوع پر میرے بھائی اور ماموں مل کر باتیں کرتے تھے۔کبھی فضول بات میں نے