سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 139 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 139

۱۳۹ تو عصمت (ہماری بہن) سو رہی تھیں۔خادمہ نے اس کو جگایا اور کہا اُٹھو بی بی ! تمہارا بشیر آگیا۔کیونکہ بشیر اول کی وفات پر غالباً عصمت اس کو یاد اؤں کرتی ہوں گی۔اماں جان نے فرمایا کہ وہ اُٹھ کر بجائے میری طرف آنے کے " میرا لبشیر آ گیا۔کہتی ہوتی اپنی بڑی والدہ (والدہ حضرت مرزا سلطان احمد قصاب) کی طرف یعنی تائی صاحبہ کے گھر کو دوڑ گئی۔اس کو اپنی بڑی والدہ سے بہت تعلق تھا اور وہ بھی اس کو بہت پیار کرتی تھیں۔بسم اللہ وغیرہ کی کوئی تقریب میں نے نہیں سنی نہ دیکھی۔آمین بے شک ہم سب کی ہوئی اور بہت دھوم سے ہوئی۔آپ نے شروع میں جہاں تک مجھے یاد ہے اکثر سنا ہوا ( نام یاد نہیں آرہ) اس وقت بنگالی صاحب تھے نیز اُن کی اہلیہ صاحبہ کا دُودھ میرے منجھلے بھائی صاحب نے پیا تھا۔زینب بیگیم مصری عبدالرحمن) کے والد صاحب صحابی تھے۔مخلص تھے۔ایک خط اُن کا میرے پاس رکھا ہے میرے میاں کو لکھا تھا۔ایک بہت مبشر خواب مگر نام اُن کا بھول گئی اس وقت اگر اللہ کے ساتھ نام تھا یا د ہی نہیں آرہا۔غالباً اُن سے ہی ابتداء میں پڑھا پھر سکول میں بھی اور اصل شوق سے جو پڑھنا شروع کیا تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے جو قرآن شریف و حدیث پڑھنے لگے کیونکہ اس وقت سے مطالعہ پر زور تھا اور اکثر مسائل پر حدیث وغیرہ پر میرے چھوٹے ماموں جان سے گھر پر بھی باتیں ہوتی تھیں۔ان کی توجہ علم دین کی طرف ہی رہی مگر یہ نہیں کہ ہر وقت لگے ہی رہیں۔میز پر قرآن شریف عربی کی کتابیں، نفت وغیرہ کتب حدیث اور ایک انجیل بھی ضرور رکھی رہتی تھی۔اسی طرح شیعوں کے مرائی اور کتابیں مختلف مذاہب کی ہوں گی ضرور مگر میں نے انجیل پڑھ کر دیکھی کچھ حصہ اور مرثیے پڑھے اوہ یاد ہے۔انیس اور دبیر بھی اُن کے پاس تھے۔کوئی خاص وقت پڑھائی کا باہر صرف بھی نہیں کرتے تھے اور اندر بھی پڑھتے ضرور تھے مگر اتنا نہیں کہ دن رات جیسے لڑکے سر کھپاتے ہیں، ان کو تو اللہ تعالٰی نے خود ہی اپنے فضل سے پڑھا دیا۔