سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 138 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 138

۔اور اکثر روتی رہتی۔تمہارے ابا یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے میں نے ذکر نہیں کیا۔مگر جب آپ نے بہت اصرالبہ کیا کہ بات کیا ہے ؟ کیا تکلیف پہنچی ہے؟ مجھے بتانا چاہیئے تو میں نے ڈرتے ڈرتے یہ خواب بیان کیا۔خواب سن کر تو آپ بے حد خوش ہو گئے اور فرمایا اتنا مبارک خواب اور اتنے دن تم نے مجھ سے چھپایا ! تمہارے ہاں لڑکا اسی حمل سے پیدا ہوگا اور نظام الدین کے نام پر غور کرو۔اس کا مطلب یہ مرزا نظام الدین نہیں تم نے اتنے دن تکلیف اٹھائی اور مجھے یہ بشارت نہیں سنائی۔اپنا بچپن کا ایک خواب یاد آگیا۔یاد رہا اور کچھ سال ہوتے ہیں نے لکھ بھی لیا تھا۔میں نے خواب میں دیکھا ( میں خواب میں اوپر کے صحن میں کھڑی تھی) کہ ہمارے صحن کا کنواں لبالب پانی سے بھرا ہے اور ایک جوان نوعمر جس کی پشت سے بڑے بھائی صاحب مرزا بشیر الدین محمود احمد ہی معلوم ہوتے تھے اتیز تیز اس کنواں کے گرد گھوم رہا ہے اور اس کی زبان پر اونچی آواز سے یہ الفاظ جارہی ہیں : إنِّي جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " آنکھ کھلی تو میرے بڑے بھائی صاحب کا مصر (صرف شانوں تک) میرے تکیہ پر تھا پہلے تو میں دیکھتی رہی مگر جب وہ کیفیت دور ہوگئی تو ڈر کر حضرت مسیح موعود علیه السلام کو پکارا اور کہا کہ میں نے اس طرح خواب دیکھا ہے۔آپ نے فرمایا یہ کشف تھا۔ڈرو نہیں، بہت مبارک خواب اور کشف ہے۔جہاں تک مجھے یاد ہے۔حضرت اماں جان کی زبانی دائی کا نام ہر دوائی تھا۔اذان بھی کان میں حضور خود دیتے تھے اور غالباً شہد وغیرہ بھی خود ہی چٹاتے ہوں گے۔مگر اس کے لئے خاص الفاظ حضرت اماں جان رضی اللہ عنھا کے مجھے یاد نہیں۔حضرت اماں جان نے فرمایا کہ جب تمہارے بڑے بھائی پیدا ہوئے