سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 130
ذہن گرد و پیش پر غور کرنے اور چھوٹے چھوٹے واقعات سے سبق حاصل کرنے کا عادی تھا۔اور کچھ اس طریق پر کہ جب گھر آکر اپنے شکار کے تھنے بیان کیا کرتے تو حضرت اماں جان اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام جہاں ضروری سمجھتے مناسب نصیحت فرما دیتے جو حکمت ودانائی سے لبریز ہوتی۔ایک مرتبہ آپ ایک طوطا شکار کر لائے۔ہمارے ہاں عوام الناس میں طوطے کو حرام سمجھا جاتا ہے اور بہت سے علماء کے نزدیک اس کا کھانا مکروہ ہے لیکن جہاں تک شریعیت کا تعلق ہے کوئی ثبوت اسکے حرام یا مکروہ ہونے کا نہیں ملتا۔البتہ ہمارا مزاج ضرور گواہی دیتا ہے کہ یہ جانور کھانے کا نہیں حضرت سیح موعود علیہ السلام نے اس موقع پر ظاہری اصطلاحوں میں پڑنے کی بجائے بڑے ہی پیارے انداز میں وہ حکمت کی بات صاحبزادہ صاحب کو سمجھا دی جس کے نتیجہ میں صرف طوطے کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ اس قسم کے بیسیوں الجھے ہوئے مسائل نہایت آسانی سے حل ہو جاتے ہیں، آپ نے فرمایا : "میاں ! اللہ تعالیٰ نے سب جانور کھانے کے لئے ہی پیدا نہیں کئے۔بعض ان میں سے خوبصورتی کے لئے بھی پیدا کئے گئے ہیں۔(یعنی اللہ تعالیٰ کی کائنات کو زینت بخشنے کے لئے) طوطا انہیں میں سے ایک ہے۔" بات یہ چھوٹی سی ہے لیکن جس بچے کی اس حکمت اور دانائی سے تربیت ہو رہی ہو، اس کی بصیرت میں لطافت اور قلب و ذہن میں وسعت کیوں پیدا نہ ہو۔شکار کے علاوہ آپ کو گھوڑ سواری کا بھی شوق تھا آپ فرماتے ہیں: "مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے مجھے ایک گھوڑی خرید کر دی تھی۔درحقیقت وہ خرید تو نہ کی گتی تھتی بلکہ تحفہ بھیجی گئی تھی۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ میں نے لڑکوں کو سائیکل پر سواری کرتے دیکھا تو میرے دل میں بھی سائیکل کی سواری کا شوق پیدا ہوا۔میں نے اس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں کیا۔آپ نے فرمایا مجھے سائیکل کی سواری تو پسند نہیں ہیں تو گھوڑے کی سواری کو مردانہ سواری سمجھتا ہوں۔میں نے کہا اچھا آپ مجھے گھوڑا ہی سے دیں۔آپ نے فرمایا پھر مجھے گھوڑا وہ پسند ہے جو مضبوط اور طاقتور ہو۔اس سے غالباً آپ کا منشا یہ تھا کہ میں اچھا سوار بن جاؤں گا۔آپ نے کپورتھلہ والے عبد المجید خان صاحب کو لکھا کہ ایک اچھا تھوڑا خرید کر بھجوا دیں۔خان صاحب کو اس لئے لکھا کہ ان کے والد صاحب ریاست کے اصطبل کے