سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 115 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 115

۱۱۵ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ ابتداء میں حضور بندہ کے مکان پر پڑھنے کے لئے تشریف لاتے تھے اور وہ مکان حضرت مسیح موعود عليه الصلوة و السلام کا ہی مکان تھا جو حضور کے رہائشی مکان کے بالکل متصل بلکہ حضور کے گھر کے ساتھ ملحق تھا ہم غالباً تین سال اس مکان میں رہے اور اس تمام عرصہ میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی بندہ کے پاس پڑھنے کے لئے تشریف لاتے اور جب کبھی آپ کو پیاس لگتی تو آپ اُٹھ کر اپنے گھر تشریف لے جاتے اور اپنے گھر سے پانی پی کر پھر واپس تشریف لاتے۔خواہ کیسا ہی مصفا پانی کیسے ہی صاف ستھرے برتن میں آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا آپ اسے نہ پیتے صرف اس لئے کہ حضرت اقدس علیہ ا السلام کی طرف سے آپ کو ہدایت تھی کہ کسی کے ہاتھ سے کوئی کھانے پینے کی چیز نہ لینا۔اب بظاہر تو یہ ایک چھوٹی سی بات معلوم ہوتی ہے، لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ ایک چھوٹا سا آئینہ ہے جس میں ہمیں حضور کی اس وقت کی شکل صحیح رنگ میں نظر آسکتی ہے۔اول دیکھتے کہ حضور اس بچپن کے زمانہ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کیسی کامل اطاعت کرتے اور کبھی بھی اس کی خلاف ورزی نہ کرتے۔دوسرے دیکھتے کہ وہ اس اطاعت میں کس درجہ کی احتیاط سے کام لیتے۔بظا ہر حضرت اقدس نے جب فرمایا کہ کسی کے ہاتھ سے کھانے پینے کی چیز نہ لیا تو حضرت اقدس کی مراد ایسی چیزوں سے تھی جو لوگ بچوں کو اپنی محبت اور پیار کے اظہار کے لئے دیتے ہیں جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ کسی کے برتن سے پانی بھی نہ پیتا۔مگر آپ کی حتیاط اس درجہ کی تھی کہ آپ اپنے گھر کے سوا قادیان میں کسی اور گھر سے کسی گھڑے یا صراحی سے پانی لے کر پینا بھی حضرت اقدس کے حکم کی خلاف ورزی ہی سمجھتے تھے۔یہی حد درجہ کی احتیاط ہے جسے دوسرے لفظوں میں تقویٰ کہتے ہیں۔پس آپ کے اسی عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ بچپن میں ہی اطاعت اور تقویٰ کی باریک راہوں پر گامر بیتے