سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 3
" رحمت کا نشان یں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اُسی کے موافق جو تُو نے مجھ سے مانگا۔۔۔نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے مسموح کیا۔ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہو گا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اُٹھایا جائے گا۔وَكَانَ اَمْرًا مَقْضِيَّا به پر شوکت الفاظ اُس پیشگوئی کی ابتدا۔اور آخر سے لئے گئے ہیں جس میں ایک عظیم الشان انسان کی ولادت کی خبر دی گئی تھی جس نے اپنی ہم عصر دنیا میں ہی نہیں بلکہ بعد کی دنیا میں بھی ایک بلند اور درخشندہ نام اور وسعت پذیر کام پیچھے چھوڑنا تھا۔کب، کیوں کس کو اور کس کی ولادت کی خبر ان الفاظ میں دی گئی اور ہم عصر دنیا اور بعد کے آنے والے انسانوں کو اس پیشگوئی نے کس حد تک اور کیسے متاثر کیا ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن پر آئندہ اس مضمون میں روشنی ڈالی جائے گی لیکن قبل اسکے کہ اس عظیم انسان کی زندگی کے دلچسپ اور عجیب حالات کا تذکرہ چھیڑا جائے، اس پیشگوئی کے پس منظر کے متعلق کچھ بیان کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔در اصل اس پیشگوئی میں کسی انفرادی عظمت کے حامل عظیم ہیرو کی پیدائش کا ذکر نہیں بلکہ ایک ایسے مذہبی رہنما کی ولادت کی خبر دی جارہی ہے جسے اس زمانہ کی ایک مذہبی تحریک کا رُوح رواں۔