سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 107 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 107

1-6 د۔میرے بچوں میں سے اکثر کے خط مجھ سے اچھے ہیں میرے خط کا نمونہ صرف میری لڑکی امتہ الرشید کی تحریر میں پایا جاتا ہے۔اس کا لکھا ہوا ایسا ہوتا ہے کہ ہم نے امتہ الرشید کے لکھے ہوئے پر ایک روپیہ انعام مقرر کر دیا تھا کہ اگر خود امتہ الرشید بھی پڑھ کر بتا دے کہ اس نے کیا لکھا ہے تو ایک روپیہ انعام دیا جائے گا۔یہی حالت اس وقت میری تھی کہ مجھ سے بعض دفعہ اپنا لکھا ہوا بھی پڑھا نہیں جاتا تھا۔جب میر صاحب نے پرچہ دیکھا تو وہ جوش میں آگئے اور کہنے لگے یہ تو ایسا ہے جیسے ٹنڈے لکھے ہوں۔اُن کی طبیعت بڑی تیز تھی۔غصہ میں فورا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس پہنچے۔میں بھی اتفاقاً اس وقت گھر میں ہی تھا۔ہم تو پہلے ہی ان کی طبیعت سے ڈرا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس شکایت لے کر پہنچے تو اور بھی ڈر پیدا ہوا کہ اب نا معلوم کیا ہو۔خیر میر صاحب آگئے اور حضرت صاحب سے تھمنے لگے کہ محمود کی تعلیم کی طرف آپ کو ذرا بھی توجہ نہیں ہے میں نے اس کا اُردو کا امتحان لیا تھا۔آپ ذرا پرچہ تو دیکھیں اس کا اتنا برا اخط ہے کہ کوئی بھی یہ خط نہیں پڑھ سکتا۔پھر اسی جوش کی حالت میں وہ حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام سے کہنے لگے آپ بالکل پڑاہ نہیں کرتے اور لڑکے کی عمر برباد ہو رہی ہے۔حضرت مسیح موعود نے جب میر صاحب کو اس طرح جوش کی حالت میں دیکھا تو فرمایا " بلاد حضرت مولوی صاحب کو جب آپ کو کوئی مشکل پیش آتی تو ہمیشہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو بلا لیا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اول کو مجھ سے بڑی محبت تھی۔آپ تشریف لائے اور حسب معمول سر نیچا ڈال کر ایک طرف کھڑے ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا مولوی صاحب میں نے آپ کو اس غرض کے لئے بلایا ہے کہ میر صاحب کہتے ہیں کہ محمود کا لکھا ہوا پڑھا نہیں جاتا میرا جی چاہتا ہے کہ اس کا امتحان لے لیا جائے یہ کہتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے علم اٹھائی