سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 95 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 95

۹۵ طبعی میلان پایا جاتا تھا اور صرف یہی نہیں کہ آپ نصیحت کی بات کو بُرا نہیں مناتے تھے بلکہ اس کے نتیجہ میں شکر گزاری کا ایسا شدید جذبہ دل میں پیدا ہو جاتا تھا کہ سالہا سال گزر جانے اور بچپن کے بعد جوانی اور جوانی کے بعد بڑھاپا آجانے کے بعد بھی اس کی شدت کم نہ ہوئی۔یہ فقرہ بہت ہی فکر انگیز ہے کہ : " جب وہ واقعہ یاد آتا ہے تو بے اختیار اُن کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے خود اپنی تربیت کی اہمیت - انسانی تربیت میں ایک بڑا حصہ اُن نصائح کا ہوتا ہے جو وہ اپنے بہی خواہوں سے سنتا ہے اور ایک حصہ اس طعن و تشنیع کا جود دشمن کی زبان سے کسی نیک نیتی کے نتیجہ میں نہیں نکلتی بلکہ محض زخم پہنچانے کی خاطر صادر ہوتی ہے۔ایک حصہ اُن حماقتوں کا بھی ہوتا ہے جو وہ گردوپیش میں بیوقوفوں سے سرزد ہوتا ہوا دیکھتا ہے اور ایک حصہ ان خود کردہ غلطیوں کا بھی جن کے سرزد ہونے کے بعد جلد یا بدیر احساس ندامت دل و دماغ کو کریدنے لگتا ہے۔ان سب امور کے علا وہ انسان کی اپنے گرد و پیش پر غور کرنے کی عمومی عادت بھی تربیت کے معاملے میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے وَتَفكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ میں اسی عادت کا ذکر ہے۔اس طرز فکر کے دو پہلو ہیں۔ایک یہ عادت کہ انسان اپنے گرد و پیش پر غور و فکر کر کے اور اپنے نفس میں ڈوب کہ معارف اور حقائق کے نئے نئے موتی تلاش کرتا رہے اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو باتیں اُسے آبائی عقائد اور عادات واطوار کے نتیجہ میں از خود گویا ورثے میں ملی ہیں، انہیں آنکھیں بند کر کے قبول نہ کرے بلکہ اس وقت تک کہ وہ مور ولی عقائد عقل کو قاتل نہ کر لیں اور دل میں جاگزیں نہ ہو جائیں انہیں نہ اپنائے جس انسان میں اس قسم کی عادت ہو اُسے گویا ایک اندرونی مربی عطا ہو جاتا ہے جو تا زندگی اس کے ساتھ رہتا اور اس کی فکری نشو و نما میں ہمیشہ مدد گار بنا رہتا ہے۔یہ طرز فکر ذہنی دیانت کا بھی متقاضی ہے جس کے بغیر صحیح نتائج تک رسائی ممکن نہیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب کو یہ مربی بھی عطا ہوا تھا۔اور آپ کو بڑے بڑے مسائل سے لے کر چھوٹی چھوٹی باتوں پر غور کرنے اور انہیں ذہن میں منقلب کرتے رہنے کی عادت تھی۔دو واقعات اس تعلق میں بطور مثال نہیں ہیں۔اولاً۔آپ فرماتے ہیں:۔میں نے بچپن میں یہ اعتراض آریوں کا شنا کہ خدا کچھ پیدا نہیں کرسکتا