سیرت الاَبدال

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 51

سیرت الاَبدال — Page 4

سيرة الابدال اردو تر جمه ويظهرون إذا قل الكرام والكرائم اور ان کا ظہور شریف لوگوں اور شریفانہ خصائل کے کم وتأجلت الخنازير والبهائم ہو جانے پر ہوتا ہے۔نیز ( اس زمانہ میں ) خنزیروں اور وكثر رجالٌ يُبَغْسِلُون وقَلَّ بہیمی صفت لوگوں کی کثرت ہو جاتی ہے۔اور جماع قوم يتهجدون، وبقى الناس کے رسیا افراد کی بہتات اور تہجد گزار لوگوں کی قلت ہو گزارلوگوں گحَسُكَل لا يعلمون ولا جاتی ہے۔اور لوگ ایسے ناکارہ ہو جاتے ہیں کہ وہ نہ علم رکھتے ہیں اور نہ عمل۔جب زمانہ بگڑ جاتا ہے اور اہلِ يعملون۔وفسد الزمان وأهلك کمال کو نابود کر دیتا ہے اور صرف سوکھے پن کے مریض كملا، وما ولد إلا زُعْبَلا، (یعنی روحانیت سے عاری) بچے ہی پیدا کرتا ہے۔چشم فلک خشک ہو جاتی ہے اور اشکبار نہیں ہوتی۔اور زمین ونـزفـت عـيـن السمــاء ومــا از مهلت، وصارت الأرض جدبة بنجر ہو جاتی ہے اور روئیدگی نہیں نکالتی۔اور لوگ ایسے وما أَبْقَلَتْ، أو صار الناس كمثل آدمی کی طرح ہو جاتے ہیں جس کے پاس ایک قومی رجل له جعندل ولا يأتبل، وعنده اونٹ تو ہومگر وہ اس پر سواری نہ کر سکے۔اُس کے پاس كحل ولا يكتحل۔ومالوا عن سُرمہ تو ہومگر وہ اُس کو لگا تا نہ ہو۔اور وہ (عوام الناس) الحق كل الميل، فحفل الوادی حق سے بالکل پھر جاتے ہیں۔اور وادی سیل (معصیت) بالسيل، يُجايئون الجدب سے لبریز ہو جاتی ہے۔پس قحط سالی کے ساتھ ہی یہ ويُزيلون الودب، ويحشأُون ابدال بھی آتے ہیں۔اور بدحالی دور کرتے ہیں۔اور وس وينورون الزمان۔الشيطان، و يرفأون ما اخرَورَقَ شیطان کے پیٹ میں تیرگھو نپتے ہیں۔اور جو کچھ پھٹ چکا ہو اُس کو رفو کرتے ہیں اور زمانے کو منور کرتے ہیں۔ومن علاماتهم أنهم قوم اور ان کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ایک ایسی لا يجدون أحدا يأخذ جلالته قوم ہے جن کے دل کسی کے جلال سے مرعوب نہیں ہوتے بقلوبهم، ولا يَعُدّون كدودة من اور جو شخص نہ تو جھکے اور ان کے چشمہ فیض سے چلو تک لم يتطأطأ ولم يغترف من شُوبُوبِهِمُ بھی نہ بھرے(وہ) اُسے کیڑے کے برابر بھی نہیں سمجھتے۔