سیرت الاَبدال — Page 7
سيرة الابدال اردو تر جمه و من علاماتهم أنك تراهم في اور ان کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ تو انہیں سُبُل الله مسارعين كالذِعْكِنَة، دیکھتا ہے کہ وہ اللہ کی راہوں میں مضبوط تنومند تیز رو وأما أمور الدنيا فيتز حنون عنها اوٹنی کی طرح دوڑتے ہیں اور رہے امور دنیا تو ان ولا يؤثرونها إلا بالكراهة، میں بے رغبتی دکھاتے ہیں اور کراہت سے ہی انہیں ويُظهر الله بهم ما صلح من اختیار کرتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ لوگوں أخلاق الناس وما كان كالدّاءِ کے اچھے اخلاق اور ان برائیوں کو جو مخفی بیماری کی ۴ الدفين۔فيُشابهون مطرًا يُظهر طرح ہوتی ہیں ظاہر فرما دیتا ہے۔وہ اُس بارش کے خواص الأرضين، وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ مشابہ ہوتے ہیں جو زمینوں کے خواص ظاہر کر دیتی يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِاِذْنِ رَبِّهِ وَالَّذِی ہے۔اور اچھی زمین کی روئیدگی اپنے رب کے حکم خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًا سے نکلتی ہے اور خراب زمین کی پیداوار رڈی ہی نکلتی كذالك ضرب الله مثلا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور فاسقوں کی مثال ایسی ہی بیان فرمائی ہے۔للمؤمنين والفاسقين۔ومن علاماتهم أنك تجدهم اور ان کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ تو انہیں کر جل رزين، وعمود رصين باوقار شخص ، زیرک سپہ سالار اور ایسے تاجر کی طرح جو وتــاجـر هـو بدء رحنته و قيل سالار کارواں ہو اور اپنے ہمعصروں کا سرخیل پائے المعاصرين، ویزجون عيشتهم گا۔اور وہ اپنی زندگی گریہ وزاری میں بسر کرتے ہیں۔في حَذَلٍ وأنين، ويبيتون لربهم اور اپنے ربّ کے لئے قیام و سجود میں ساری رات گزار قائمين و ساجدين، ويجتنبون دیتے ہیں۔اور خواہشات نفسانی کے بھیڑیے سے بچتے حطل الشهوات ويعبدون ربهم ہیں اور موت کے آنے تک اپنے رب کی عبادت میں يأتيهم يقين، وإن التحوت مشغول رہتے ہیں۔اور رذیل لوگ جب ان کو گالیاں إذا سبُوا وأضبوا كالكلاب، دیتے ہیں اور کتوں کی طرح اُن پر پل پڑتے ہیں اور وجعلوهم كأرض تحت الضباب انہیں ایسی زمین کی طرح کر دیتے ہیں جو گبر کے نیچے آگئی ہو، تو ایسی حالت میں بھی تو انہیں صابر پائے گا۔حتى وجدتهم صابرين۔الاعراف: ۵۹