سیرت الاَبدال — Page 21
سيرة الابدال ۲۱ اردو تر جمه فتـنـير بـنـيـر التقوى بإذن الله پس انہیں خدائے رحمان کے حکم سے تقویٰ کے تاروپود الرحمان، وتُهُبَرُ هَبُرَةٌ زائدة سے سنوارا جاتا ہے اور نفسانی خواہشات میں سے من الشهوات ويمحو كل ما يُؤبش زائد حصہ کاٹ دیا جاتا ہے۔اور گناہوں میں سے جو کچھ جمع ہو چکا ہوتا ہے وہ مٹ جاتا ہے۔اور کتنے ہی من الـعـصـيــان، وكم من عُمى مستهترين يبصرون ويُهذبون ایسے اندھے عاقبت نا اندیش ہیں جو د یکھنے لگ جاتے ہیں اور ان کے ذریعہ مہذب ہوکر متقی اور عارف باللہ بهم فإذا هـم مـن أهـل التـقـاة والعرفان، فويل للذين يضحكون بن جاتے ہیں۔پس ان لوگوں پر افسوس ہے جوان پر اُس عورت کی طرح جنسی اُڑاتے ہیں جو اپنے خاوند عليهم كامرأةٍ تُهَار زوجها ولا کے رُوبرو کتے کی طرح بھونکتی ہے، وہ نہیں جانتے يعلمون أنهم بطلاق يهلكون فإنّ کہ محض طلاق سے تباہ وبرباد ہو جائیں گے۔کیونکہ الله علّق نجاة النّاس بحبهم الله تعالیٰ نے لوگوں کی نجات کو ان (ابدال ) کی محبت وعنايتهم فقد هلك من قطع اور عنایت سے وابستہ کر دیا ہے۔پس وہ شخص ہلاک العُلَق منهم بما ترك قوما ہو گیا جس نے اُن سے قطع تعلق کیا کیونکہ اُس نے يَحْرُسُون۔ولا تُصِيبُ تلك ایسے لوگوں کو چھوڑ اجو محافظ تھے یہ بد بختی اُس آدمی کے نصیب میں ہے جس کی فطرت میں کامل سستی ہو الشقوة إِلَّا رجلا في فطرته هُزَيَّرَةٌ، ومع ذالك عجلة ونخوة، وليس من الذين يخافون الله ويتدبّرون۔وكلّ ذالك تتولّد من وَضَرِ الدُّنيا اور اس کے ساتھ جلد بازی اور نخوت ہو اور وہ خدا سے ڈرنے والوں اور تدبر کرنے والوں میں سے نہ ہو اور یہ سب کچھ دنیا وی غلاظت سے پیدا ہوتا ہے۔پس ہلاکت ہے اُن لوگوں کے لئے جو خود کو اس سے فويل للذين بها يتسخون۔يسعون آلودہ کرتے ہیں۔وہ اہل اللہ کو دھتکارتے ہوئے اور لإيذاء أهل الله ذائبين مستهزئين استہزاء کرتے ہوئے ایذارسانی کی کوشش کرتے ہیں ويحسبون أنهم يحسنون اور گمان کرتے ہیں کہ وہ نیک کام کر رہے ہیں۔