سیرت الاَبدال

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 51

سیرت الاَبدال — Page 22

سيرة الابدال ۲۲ اردو تر جمه ومن أظلم أبناء الزمان في هذا اس وقت ابنائے زمانہ میں سے سب سے بڑا ظالم وہ الأوان۔من تصدى لإيذائي وهو ہے جو میری ایذا رسانی کے لئے کمر بستہ ہے وہ شریر ضبس و أشوس کالشیطان ہے اور شیطان کی طرح ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنے والا وخوفنى من کشیشه وفحیحه متکبر ہے۔اور اس نے مجھے اثر دھا کی طرح اپنی پچھنکار كالشعبان، ووالله إنِّي حِمَى اور جلد کی آواز سے ڈرایا ہے۔اور اللہ کی قسم میں رحمن الرحمان، فمن أراد أن يقطعنی خدا کی رکھ ہوں۔پس جس نے مجھے کاٹنے کا ارادہ کیا فسيقطع من أيدى الديان، وإنّی وہ جزا سزا کے مالک خدا کے ہاتھوں سے کاٹا جائے بأعينه ولا يخاف لدیه گا۔اور میں اُس کی نگاہ میں ہوں اور اُس کے حضور المرسلون، ويردّ الجَربَزة على رسول ڈرا نہیں کرتے۔اور فریب کاروں کے فریب أهلها لو كانوا يعلمون۔ان پر لوٹا دیئے جائیں گے ، کاش وہ جانتے۔ومن علاماتهم أنهم لا يكونون اور ان کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ میدانِ كداحض بل يقومون فی ماقط کارزار میں کم ہمتوں کی طرح نہیں ہوتے بلکہ ثابت ولا يُــضـائهون الجبان، ويؤمون قدم رہتے ہیں اور بُزدلی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔اور وہ لوگوں کی پیشوائی ایک ماہر کی طرح کرتے ہیں تا کہ الناس كخوتع ليحفظوا من خاف السرحان، وينقلبون بمعارف بھیڑیئے سے ڈرنے والوں کی حفاظت کرسکیں اور وہ قوم کے لئے بہترین چیز لے کر آنے والے کی طرح كالذي للقوم إعتان۔لا يقنعون معارف لے کر لوٹتے ہیں۔وہ اپنے ہی نفس کی کوشش على جهد أنفسهم ويخافون هدم يرقانع نہیں ہوتے۔ادھر عمر کی بنیاد کے گرنے اور بنيان الـعـمـر ويوم انقضاض ٹوٹنے کے دن کا بھی خوف ساتھ ہی لگا ہوتا ہے اس فيطلبون الوارث من الله لئے وہ اللہ تعالیٰ سے وارث طلب کرتے ہیں اور ويجدونه كابن مخاض اُسے (وارث کو ) نوخیز جوان کی طرح پاتے ہیں۔