سیرت الاَبدال

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 51

سیرت الاَبدال — Page 16

سيرة الابدال 17 اردو تر جمه وما أخذوها بيديهم وما بغوا نہ انہوں نے اسے (دنیا کو) اپنے ہاتھوں سے پکڑا اور نہ ہی إمُصَالًا، وطلّقوها بثلاث وما اُسے سمیٹنے کی خواہش کی اور انہوں نے اسے تین طلاقیں شابهوا مُمْغِلا، وأتموا قولاً دے دیں اور وہ اسقاط کی مریضہ کے مشابہ نہیں ہوئے وہ وحالا وما بالوا طَمُلا فيما قول وفعل میں کامل ہیں اور وہ خون میں لتھڑنے کی پرواہ نہیں بلغوا إِبْسَالًا۔کرتے کیونکہ وہ موت کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ومن علاماتهم أنهم يُنشأون اور ان کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی كصبي عُلهد، وفطرتهم في نشو ونما اُس بچے کی سی ہوتی ہے جسے عمدہ غذادی گئی ہو سباحتها تشابه العَنكَد اور ان کی فطرت اپنی تیرا کی میں تیزی سے تیرنے ولهم بركات كمطر إذا الت والی مچھلی عنگد کی مانند ہوتی ہے۔اور ان کی برکات يظهرون إذا كان الصدق كشجر متواتر برسنے والی بارش کی سی ہوتی ہیں۔جب سچائی اجتُثَّ۔إذا فقدهم الزمان اکھیڑے ہوئے درخت کی طرح ہو جائے تو وہ ظاہر فكأنه فقد التّهتان۔إذا كثرت ہوتے ہیں اور جب زمانہ ان سے خالی ہوتو وہ گویا الفتن والهـنـابـث فهى أرائج بارشوں سے ہی خالی رہا۔جب فتنوں اور حادثات کی ظهورهم و إرهاص نورهم۔کثرت ہو تو یہی ان کے ظہور کی خوشبو کی لپٹیں اور يسعون فی سُبل الله كطرف يازجُ، ان کے نور کا پیش خیمہ سمجھو۔وہ اللہ کے رستوں میں ويكشفون سر الناس كبطنِ تیز رو گھوڑے کی طرح دوڑتے ہیں۔اور وہ لوگوں کے يُبْعَجُ، مجيئهم بُلْجَة وذهابهم اسرار یوں جان لیتے ہیں جیسے پیٹ ہی چیر کر رکھ دیا ظلمة هم بهجة الملة والدين، ہو۔ان کا آنا روشنی اور ان کا جانا اندھیرا ہے۔وہ ملت وحجة الله على الأرضين۔يُشاعُ اور دین کی رونق اور زمین پر اللہ کی حجت ہوتے أمرهم كالبرق إذا تَبَوَّج والبحر ہیں۔ان کا پیغام یوں پھیلتا ہے جیسے بجلی کوندے إذا تموّج۔تخرج إليهم السعداء اور سمندر موجزن ہو۔نیک لوگ ان کی طرف یوں كظبي إذا خرج من تَوْلَجِها، نکلتے ہیں جیسے ہرن اپنے رہنے کی جگہ سے نکلتا ہے۔