سیرت الاَبدال

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 51

سیرت الاَبدال — Page 17

سيرة الابدال ۱۷ اردو تر جمه وتقبلهم خيار الأمة من غیر اور کج فہموں کے سوا اُمت میں سے سلیم الفطرت أعوجها۔والذين يُنكرونهم (لوگ) ان کو قبول کر لیتے ہیں۔اور جو ان کا انکار فسيعلمون عند الحشرجة، وإن کرتے ہیں وہ جان کنی کے وقت (اپنے کفر التهبوا اليوم كالنار المُنحَضَجَةِ كانتیجہ ضرور جان لیں گے اگر چہ وہ آج بھڑ کنے والی آگ کی طرح شعلہ زن ہیں۔وہ لوگ دنیا کو ترجیح إنهم يؤثرون الدنيا ويجعلونها دیتے ہیں اور اسے اپنے دلوں کا معبد بنالیتے ہیں لقلوبهم معبدها، ويتمايلون اور اُس پر ہمہ تن ایسے مائل ہوتے ہیں جیسے مرغا اپنی عليها كالدِّيك إِذا حَلَجَ ومَشَى إلى أَنشاه ليسفدها قد رَهَّدُوا مُرغی کی طرف پھلتی کرنے کے لئے پر پھیلا کر دوڑتا ہوا جاتا ہے۔وہ بٹی ہوئی رسی کی طرح حماقت میں پختہ كالحبل إذا حُمُلِجَ، وليسوا ہوتے ہیں۔اور وہ تر و تازہ ٹہنی کی طرح نہیں ہوتے بلکہ ایسے کھانے کی مانند ہوتے ہیں جسے پھپھوندی لگی ہو۔ان میں کچھ بھی بھلائی نہیں ہوتی اور وہ بخیلوں کی كَغُصْنٍ رُءُودِ بـل كـطـعـام إذا تَكَرَّج ليـ فيهم خير ويُـضــائهـون الْحِنْبِجَ۔إنّ الذين يؤمنون برسل الله مَثَلُهُم كمثل شجرة طيبةٍ في حَنادِ حُرّة هم الذين يُتخذون عَضُدًا لِمِلَّةٍ مانند ہوتے ہیں۔یقیناً جو لوگ اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں ان کی مثال ایسے پاکیزہ درخت کی طرح ہے جو زرخیز ریتلے ٹیلوں میں ہو۔وہی ہیں جن کو پاک ملت کے لئے دست و باز و بنایا جاتا ہے۔وہ مُطَهَّرَةٍ۔يسعون كثَوُهَدٍ فی سُبل اللہ کے رستوں میں جوان کی طرح دوڑتے ہیں الله بما فُقِّحُوا وقُشِرُوا عن اس لئے کہ اُن کی (روحانی ) آنکھیں کھول دی جاتی جرادة بشرية۔وأثمر فيهم نَوُر ہیں۔اور وہ بشری لبادہ سے باہر لائے جاتے ہیں اور الإيمان بنورٍ إلهية۔إنهم كأسود نور الہی سے ان کے ایمان کی گلی (شگفتہ ہو کر ) ومع ذالك ليسوا كشُحُدُود ثمر آور ہو جاتی ہے۔وہ شیر بر ہوکر بھی بدخلق نہیں وليسوا بمثقلين لترك الدنيا ہوتے۔اور ترک دنیا کی وجہ سے وہ بوجھل نہیں ہوتے