سیرت الاَبدال — Page 15
سيرة الابدال ۱۵ اردو تر جمه أو كأبي إبراهيم جيال، ولهم يا ابراہیم کے والد کی طرح لگڑ بگڑ اور انہیں ترک دنیا بتركها قطوف دانية وجزال کی وجہ سے جھکے ہوئے خوشے اور پھل ملتے ہیں۔اور والدنيا لهم جعَالٌ ، يُجْعِلُ الله دنیا ان کے نزدیک وہ کپڑے کا ٹکڑا ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ان کی معیشت کی ہنڈیا چولہے سے اُتارتا ہے بها قدر معيشتهم فلا يمسهم پس اُن کو کوئی گزند نہیں پہنچتا۔یہ (عطا) ان کے رب کی خَبَالٌ، هذا من ربهم ولهم طرف سے ہے جبکہ وہ اس (دنیا) سے انقطاع اختیار منها الخزال و إِذْهَال ، والی کرتے ہیں اور اسے فراموش کر دیتے ہیں۔پس اللہ کی الله إِرْقَال، وفي ذكره إر معلال طرف وہ تیزی سے بڑھتے ہیں اور اُس کے ذکر سے (ان هم قوم يحسبون أن الدنيا زبال کے آنسو رواں رہتے ہیں۔وہ ایسے لوگ ہیں جو دنیا کو اتنا سمجھتے ہیں جتنا کہ چیونٹی اپنے منہ میں اُٹھا لیتی وإزعال النفس به ضلال، ہے جبکہ اس (متاع دنیا) کے لئے نفس کو مستعد کرنا وإنّها مُـدَى يُـذبـح بها وطالبوها گمراہی ہے۔اور یہ وہ چھریاں ہیں جن کے ذریعہ ذبح کیا سخال، وماؤها ضهل وطعامها جاتا ہے اور اس (دنیا) کے طالب بکر وٹے ہیں۔اس اغتيال، وسيرتها الإعراض (دنیا) کا پانی تھوڑا اور کھانا اس کا ہلاکت ہے اور اُس کی كمُفسِّلَةٍ وصورتها كَقِحل خصلت اُس عورت کی طرح اعراض کرنا ہوتا ہے جس کو ۸ ) ما بقى فيه جمال ، وأولها أون خاوند بلائے تو حیض کا بہانہ کر دے۔اور اُس کی صورت خشک جلد والی جیسی (ہوتی ہے ) جس میں خوبصورتی باقی نہ ہو۔اُس کا آغاز یسر اور اس کا انجام نحسر ہے۔تو اس وآخرها اقْذِغَلَالٌ لا تجد كمثلها قرزلا، وإنّها زقوم فلا تحسبها جیسا لیم نہیں پائے گا۔یہ تو تھوہر ہے پس تو اسے انگور فعالا، ولذالك سَلَّ عليها كا خوشہ مت خیال کر اور اسی لئے عبادالرحمن نے عباد الرحمن سیفا قَصَّالا، اس پر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنے والی تلوار سونتی ہے حمد حضرت ابراہیم کے والد کو شرک کرنے کی وجہ سے جیال یعنی ضبع ( لگڑ بگڑ) کی شکل میں مسخ کیا گیا تھا۔(لسان العرب زیر لفظ ضبع )