سیرت الاَبدال — Page 3
سيرة الابدال اردو تر جمه ويستقرى التقى الذي يبغى الحق اور میں وہ شخص ہوں جو حق جو متقی کی تلاش اور جستجو میں ویرود، فبشرى للمتقين إن ہے۔پس متقیوں کے لئے بشارت ہے۔یقیناً تقویٰ التقات ليس بهين ، ووالله إنّها آسان نہیں۔بخدا تقویٰ بھی موت سے مشابہ ہے۔تُضاهى الحَيْن۔ومن آثر التقات کیونکہ جس نے تقویٰ شعاری کو مقدم رکھا وہ (گویا) فهو ظاب رجل آثر الممات ایسے شخص کا ہم زلف ہے جس نے موت کو ترجیح وهي عقبة كُنُود أيها الفتيان، دی۔اے جوانو! تقویٰ ایسی چوٹی ہے جسے سر کرنا وهي الموت المحرق بالنيران، دشوار ہے۔یہ ایسی موت ہے جو ( قسم قسم کی) آگ سے ثم هي الطرف الموصل إلى جلانے والی ہے، علاوہ ازیں وہ ایک عمدہ گھوڑا ہے جو الجنان، أَتَحْسَبُ كم أمتُ بينها جنتوں تک پہنچاتا ہے۔تجھے کیا معلوم کہ اس میں اور وبين حمام الإنسان إذا بلغت انسان کی موت میں کتنا فاصلہ ہے۔جب تو اس کی آخری منتهاها و استوعبتها فهى الموت حد کو پہنچ جائے اور اس کی تکمیل کرلے تو یہی عارفوں عند أهل العرفان، إن التقی لا کے نزدیک موت ہے۔یقینا متقی شیطانی شور و غوغا يخاف لَجَبَ الشيطان، ويحسب سے نہیں ڈرتا۔اور اللہ تعالیٰ کے رستے میں اپنا خون انشعاب دمہ فی الله کشرابِ بہانے میں اُسے ایسا لطف آتا ہے جیسے عمدہ مصفی مُشَعُشَع بالشغبان، وللأتقياء | ٹھنڈے پانی سے ملی ہوئی شراب میں۔اور متقیوں کی علامات يُعرفون بها ، و لا ولی علامات ہیں جن سے وہ پہچانے جاتے ہیں۔اے جوانو! إلا التقى یا فتیان، منهم قوم متقی ہی ولی ہوتا ہے۔اور ان ہی میں سے ایک جماعت يُرسلون لإصلاح الناس عند شیطان کے مفاسد کے وقت لوگوں کی اصلاح کے مفاسد الخنّاس من الله الرحمان لئے خدائے رحمن کی طرف سے بھیجی جاتی ہے۔فمن علاماتهم أنهم يُبعثون ان کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ایسی تاریکی کے وقت عند ظلام يُحيط الزمان، مبعوث کئے جاتے ہیں جو سارے زمانہ پر چھائی ہوتی ہے۔