سیرت الاَبدال — Page 2
سيرة الابدال اردو تر جمه وما كنتُ من المفترين ولا أُرغِنُ اور نہ میں مفتری ہوں۔اور جوحق کی مخالفت کرے میں إلى من خالف الحق وأرى الوجه اس کی بات پر کان نہیں دھرتا اور نہ میں ایک بخیل کی كالضنين۔ولا أُبالى أحدًا من العِدَاء طرح کسی کے چہرے کو دیکھتا ہوں۔مجھے دشمنوں میں سے کسی کی پرواہ نہیں خواہ وہ مجھے ہلاکت خیز خوف سے ولوخوفني بخوف أدقى ولا أحضره وحسبها بئس القرين۔ڈرائے۔اور میں اُس کے سامنے ڈرپوکوں کی طرح نہیں كالمتز أزئين۔وليست الدنيا عندى آتا۔اور میرے نزدیک دنیا محض اس بد شکل عورت کی مانند إِلَّا كَجَهْبَلَةٍ إِذَا جَرْشَبَتْ ثم ما ہے جو بوڑھی ہو چکی ہو پھر وہ شوہر کی نافرمان بھی ہو۔تَبَعْلَتْ فَبَذَءَهَا بِعلُها وبَدَء اور اُس کا خاوند اُس سے بیزار ہو اور اُس کے اترا کر چلنے رَوْسَها وَ دَقشها و نزر أمرها سے اور اُس کے بناؤ سنگار سے نفرت کرے اور اُس کو ہر طرح ذلیل سمجھے اور اُسے بدترین رفیق خیال کرے۔ومن افتتح سورة النور والفاتحة اور جو شخص سورۃ نور اور فاتحہ اور مائدہ کھولے اور پھر والمائدة فَسَجَّلَها و تدبّرها اسے توجہ سے پڑھے اور طالب حق کی طرح اُس كالطالبين، وانتقل من غَلَل إلى برتر بر کرے۔اور کم پانی سے اُس کے نیچے کے کثیر پانی کی طرف منتقل ہو۔اور اپنا فہم گداز کر دے غَمـر هـو تـحـتـه، وأذاب فهمـه اور اپنے وجود کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے اور تھوڑے پانی و رعبل وجوده، وتجنب سے مجتنب رہے اور تھوڑے پانی والے تالاب پر قانع نہ الصلال وما قنع على مشكل وما ہو اور زمین کی سختی سے مرعوب نہ ہو اور شہر میں آب رواں هاب شرنا، وما لغب في ابتغاء کی تلاش میں ماندہ نہ ہو۔تو وہ شخص میرے دعوی کی ماء معين، فيُشاهد صدق ما سچائی کا مشاہدہ کرلے گا اور وہی رائے قائم کرے گا جو ادعيت، ويرى ما رأيتُ، ويكون میری رائے ہے اور یقین کرنے والوں میں سے ہو من المستيقنين۔و إنى أنا المسيح جائے گا۔اور یقیناً میں ہی مسیح موعود ہوں۔اور وہ میں الموعود، وأنا الذي يدفو و یجود ہی ہوں جس نے ہلاک کرنا تھا اور جود وسخا کرنی تھی۔