سیرت الاَبدال

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 51

سیرت الاَبدال — Page 23

سيرة الابدال ۲۳ اردو تر جمه و يفهضون الجذبات ابتغاء رضا اور وہ رب کائنات کی رضا حاصل کرنے کے لئے رب الكائنات، ويخلصون لربهم اپنے جذبات کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے ہیں۔اور وہ ولا يسوطون ولا يبرحون اپنے رب کے لئے خالص ہو جاتے ہیں اور ملونی الحضرة ولا يَشْحطون۔ویلیط نہیں کرتے۔اور وہ درگاہ حضرت کو نہیں چھوڑتے اور حبّ الله بقلوبهم وينطون محبت الہی ان کے دلوں کے ساتھ پیوستہ ہو جاتی ہے اور أنفسهم بمحبوبهم ولا يُحفظون وہ اپنے نفوس کا ناطہ اپنے محبوب سے جوڑ دیتے ہیں۔اور النّاس وعلى اللسان يُحافظون، وہ لوگوں پر غضبناک نہیں ہوتے بلکہ زبان کی حفاظت ولو بدر منهم مُحفِظ فباللین کرتے ہیں۔اور اگر کوئی غصہ دلانے والا لفظ اُن سے يتداركون ينطقون کرجل نکل بھی جائے تو نرمی کے ساتھ اس کا تدارک کرتے بلتعاني وتُفصح كلمهم من ہیں۔وہ فصیح اللسان شخص کی طرح بات کرتے ہیں اور فضل ربّاني، يُدَعْذِعُونَ المال ان کے کلام میں فصاحت فضلِ ربانی سے آتی ہے۔وہ على الفقراء ، ويُبارزون كزميع فقراء پر مال لوٹاتے ہیں۔اور وہ ابتلا کے میدانوں مقدام في مواطن الإبتلاء۔میں بہادر پیش قدمی کرنے والے کی طرح مقابلہ لا ترى في وجوههم شفعة کرتے ہیں۔تو غصہ کے وقت ان کے چہرے عند الغضب، وتجدهم كحيتان لال پیلے نہیں دیکھے گا۔اور تو انہیں مصیبت کے وقت شروع نـاظــريــن إلى ربهم عند سر اُٹھائی ہوئی مچھلیوں کی طرح اپنے رب کی طرف ، وعلى شراعهم حبل من نظریں لگائے پائے گا۔اور ان کی گردنوں پر محبت الہی اور حُبّ الله ولا كشرعة العقب کی رسی ہوتی ہے نہ کہ تانت سے بنا ہوا پھندا۔ان لا يصول عليهم إلا الذى هو پر وہی حملہ کرتا ہے جو کمینہ ہوتا ہے اوران کو وہی كقريع، ولا يؤذيهم إلا الذى هو تکلیف دیتا ہے جو دیوث سے بڑھ کر بد بخت ہو۔اُن أشقى من قندَع لهم عزيمة کا عزم ایسا راسخ اور غالب ہوتا ہے کہ جب وہ کسی کام قاهرة إذا قصدوا أمرًا جلحواء کا قصد کرلیں تو مصمم ارادہ سے اقدامات کرتے ہیں۔الكرب،