منتخب احادیث — Page 26
روزه ٣١- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عليه وسلم : قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : كُل عمل بن ادم له إِلَّا الصَّيَامَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِئُ بِهِ۔وَالصَّيَامُ جُنَّةً فَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُتُ وَلَا يَصْحَبُ فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمُ۔وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ تَخْلُوْفُ قمِ الصَّائِمِ أَطيبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ (بخاری کتاب الصوم باب هل يقول اني صائم اذا ستم) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انسان کے سب کام اس کے اپنے لیے ہیں مگر روزہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کی جزا بنوں گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔روزہ ڈھال ہے پس تم میں سے جب کسی کا روزہ ہو تو نہ وہ بے ہودہ باتیں کرے نہ شور و شر کرے اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے لڑے تو اسے کہنا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں۔مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ اور خوشگوار ہے کیونکہ اس نے اپنا یہ حال خدا تعالیٰ کی خاطر کیا ہے روزہ دار کے لئے دو خوشیاں مقدر ہیں ایک خوشی اسے اس وقت ہوتی ہے جب وہ روزہ افطار کرتا ہے اور دوسری اس وقت جب روزے کی وجہ سے اسے اللہ تعالیٰ کی ملاقات نصیب ہوگی۔26