منتخب احادیث — Page 13
میں اس سے دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں اور جب وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔“ ۱۵ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ فَلَمَّا حَضَرَةُ الْمَوْتُ أَوْصَى بَنِيْهِ فَقَالَ إِذَا أَنَا مِتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اسْحَقُونِي ثُمَّ ذَرُونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ فَوَا اللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَى رَبِّ لَيُعَذِّبُنِي عَذَابًا مَّا عَذَّبَهُ أَحَدًا قَالَ فَفَعَلُوا بِهِ ذَلِكَ ، فَقَالَ لِلْأَرْضِ ادِى مَا أَخَذْتِ ، فَإِذَا هُوَ قَائِمُ فَقَالَ لَهُ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ قَالَ خَشْيَتُكَ أَوْ مَخَافَتُكَ يَارَب ! فَغَفَرَ لَهُ۔(بخاری کتاب التوحید، ابن ماجه کتاب الزهد باب ذكر الذنوب، مسند احمد جلد ۲ صفحه ۲۶۹) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ :- ایک مرتبہ ایک ایسا شخص تھا جس نے بہت گناہ کئے تھے جب وہ مرنے لگا تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میرے مرنے کے بعد میری لاش کو جلا دینا۔ریزہ ریزہ کر کے اُس کا سفوف بنا دینا اور پھر میرے جسم کی راکھ کوسمندر کے قریب لے جا کر ہوا میں بکھیر دینا۔مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھکو پکڑ لیا تو مجھ کو ایسی سزا دیگا جو آج تک کسی کو نہ دی ہوگی ( رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیٹوں نے وہی کیا جو ان کو کہا گیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ اس شخص کے جسم کے تمام ذرات جہاں کہیں بھی ہیں وہ حاضر کر دیئے 13