منتخب احادیث — Page x
مواخذه جرم خیال کیا جاتا تھا۔اس بارہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے الفاظ میں یہ تنبیہ ہے کہ وہ شخص جو مجھ سے ایسے الفاظ منسوب کرتا ہے جو میں نے نہیں کہے ( آخرت میں ) اُس کی جگہ جہنم میں ہوگی۔“ تیسرے یہ کہ جب لوگ آپ کے متعلق یا آپ کی بیان فرمودہ کوئی روایت کسی کے سامنے بیان کرتے تھے تو ایسی روایت سننے والے کا یہ فرض خیال کیا جاتا تھا کہ وہ نہ صرف اس روایت کو حفظ کرے بلکہ راوی کا نام اور اس کے کوائف بھی حفظ کرے تا کہ اگر روایت کی صحت کی مزید تحقیق ضروری خیال کی جائے تو آگے روایت بیان کرنے والا اصل راوی کی سند پیش چوتھی اہم وجہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بھی قوم عرب اپنے لا زوال حافظے کے لئے مشہور تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل بھی عربوں میں ایسے لوگوں کا ملنا مشکل نہ تھا جنکو عرب شعراء کے ایک لاکھ یا اس سے زائد اشعار یاد نہ ہوں۔اس کے علاوہ شجرہ نسب یا در رکھنے میں بھی عرب مشہور تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد آپ کے متبعین کا روحانی درجہ بہت زیادہ بلند ہو گیا تھا۔اور مبالغہ آمیزی کی عادت کی مذمت کی جانے لگی تھی مزید برآں قرآن کریم میں نہ صرف راست گوئی کی بلکہ روایتوں کی صحت کی تحقیق کی بھی بے حد تاکید موجود ہے۔ان وجوہات کی بناء پر بانی اسلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال جمع کرنے میں ایسی خصوصی احتیاط برتی گئی جو دوسرے تاریخی مواد کے جمع کرنے میں کبھی بھی بالکل اختیار نہیں کی گئی تھی۔ان اقوال کے جمع کرنے کے دوران مسلمان علماء نے اس قدر تفصیلی چھان بین سے کام لیا