سیکھوانی برادران — Page 2
1 پیش لفظ عزیز ساتھیو! اللہ تعالیٰ کے پیارے ایک ایسے جو ہر کی طرح ہوتے ہیں جو تہہ در تہہ پردوں میں رہنا پسند کرتے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا پر ظاہر فرمادے۔انتہائی سعادت مند ہوتے ہیں وہ لوگ جو ابتداء سے ہی انبیاء کے ساتھی بن جاتے ہیں۔سیکھوانی برادران انہیں گنے چنے چند خوش نصیبوں میں سے تھے جو حضرت اقدس مسیح موعود سے بہت ابتدائی زمانہ سے تعلق رکھتے تھے۔ان کے حضرت اقدس سے بے پایاں اخلاص کا ثبوت ہمیں حضرت مسیح موعود کی تحریرات اس مختصر سی کتاب میں سیکھوانی برادر ان کا مختصر تعارف کروانے کے لئے مجھے ارشاد ہوا ہے۔میری مراد حضرت میاں امام الدین صاحب سیکھوانی ، حضرت میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی اور حضرت میاں جمال الدین صاحب سیکھوانی سے ہے۔اس خاندان کو یہ شرف حاصل ہے کہ نہ صرف یہ کہ تینوں بھائی اور انکی ہمشیرہ حضرت میں بارہا نظر آتا ہے۔پھر حضور کے وصال کے بعد خلافت احمدیہ سے محبت اور امیر بی بی صاحبہ عرف مائی کا کو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر کے آپ کی اخلاص اور فدائیت ہی ان کا طرہ امتیاز رہا۔خود بھی بے مثال خدمت کی توفیق پائی اور ہم سب کیلئے بھی قابل تقلید نمونہ چھوڑ گئے۔اللہ تعالیٰ آپ سب سے راضی ہو۔جماعت میں شمولیت اختیار کی تھی بلکہ ان کی والدہ حضرت شرف بی بی صاحبہ اور والد حضرت میاں محمد صدیق صاحب بھی حضور علیہ السلام کی بیعت میں شامل ہو چکے تھے۔رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق ان تین سو تیرہ ( رفقاء) کی جو فہرست حضور نے درج فرمائی ہے اس میں چند ایسے خوش قسمت افراد بھی ہیں جنہیں مع اہل بیت حضور نے اس فہرست میں شامل فرمایا ہے۔ان میں حضرت میاں جمال الدین، حضرت میاں خیر الدین اور حضرت میاں امام الدین بھی شامل ہیں۔وایں سعادت بزور بازو نیست۔سیکھوانی برادران حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرے دادا حضرت میاں امام الدین صاحب ( والد محترم خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس) اور ان کے بھائیوں کا ذکر خیرا اپنی مختلف تصنیفات میں فرمایا ہے اور انہیں سیکھوانی برادران کے طور پر بھی ذکر فرمایا ہے۔اس کشمیری خاندان کے بزرگ دو سو سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل 1800ء میں کشمیر