سیکھوانی برادران — Page 3
3 2 کے جس گاؤں سے ہجرت کر کے قادیان کے قرب وجوار میں آکر آباد ہوئے تھے اس حضرت میاں خیر الدین صاحب فرماتے ہیں کہ ”جب میں قادیان پہنچا تو حضور گاؤں کا نام بالحجہ حائن ہے۔یہ گاؤں محل وقوع کے لحاظ سے دامن کوہ میں واقع ہے۔اس نے فرمایا ہم نے تمہارے والد صاحب کا جنازہ پڑھ دیا تھا۔اس وقت حضور (بیت) جگہ ایک بلند و بالا پہاڑ ہے جسکا نام مہ بال ہے۔اس خاندان کے افراد غالباً ڈوگرہ راج میں جب کشمیر میں قحط سالی ہوئی تو وہاں سے ہجرت کر کے (ہند ) پنجاب میں آباد ہو گئے۔ابتداء میں کچھ عرصہ قیام راجہ سائنسی ضلع امرتسر میں رہا اور پھر تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور کے ایک گاؤں سیکھواں میں ( جو قادیان سے مغرب کی جانب چار میل کے فاصلہ پر ہے ) آکر آباد ہو گئے۔تفصیل کے لئے دیکھئے تاریخ احمدیت جموں وکشمیر از محمد اسد اللہ قریشی صفحہ 38 تا 42) 66 مبارک میں تشریف فرما تھے۔“ قادیان میں آنا جانا (رجسٹر روایات جلد نمبر 13 ) اس خاندان کے افراد کا قادیان میں آنا جانا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعلقات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی سے پہلے سے تھے۔حضرت میاں امام الدین صاحب اس بارہ میں فرماتے ہیں : میری آمد ورفت قادیان میں کیوں ہوئی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ( قادیان میں ) خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے سیکھواں گاؤں میں ایک مخلص اور باوفا جماعت حضرت میرے نانکے (ننھیال) تھے۔اس واسطے میری آمد و رفت زمانہ لڑکپن سے شروع تھی۔اس مسیح موعود علیہ السلام کو عطا ہوئی۔ان میں سیکھوانی برادران اور ان کے اعزاوا قارب کو ایک وقت میری عمر قریباً شاید باراں یا تیراں سال کی ہوگی۔اس وقت قادیان کی حالت نہایت خاص مقام حاصل ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں۔بے رونق بستی تھی اور بازار خراب ہوتے تھے اور کثرت سے قمار بازی ہوتی تھی۔گویا ہر ایک سیکھواں ایک گاؤں کا نام ہے جو قادیان سے چار میل کے فاصلہ پر جانب غرب واقع ہے کا ایک پیشہ سمجھا جاتا تھا۔ہنسی ٹھٹھا سے بات چیت ہوتی تھی۔کوئی بھی خدا کو یاد نہیں کرتا۔اس جگہ کے تین بھائی میاں جمال الدین۔میاں امام الدین اور میاں خیر الدین صاحبان تھا۔مگر ایک میاں جان محمد مرحوم ( بیت) اقصیٰ کے امام تھے۔۔۔۔۔وہ حضرت صاحب کے حضرت صاحب کے قدیم اور مخلص ( رفقاء) میں سے ہیں۔۔۔۔66 پاس آتے جاتے تھے۔وہ میرے ماموں تھے۔(حضرت میاں جان محمد صاحب مرحوم یکے از (سیرت المہدی روایت نمبر 517) ( رفقاء) تین صد تیرہ۔مرتب) کچھ ان سے حضرت صاحب کی باتیں سنیں۔کچھ عام طور پر لوگوں سیکھوانی برادران ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کرم دین کے سے سنیں کہ مرزا صاحب اندر ہی اندر رہتے ہیں۔اس سبب سے میں نے حضرت صاحب مقدمہ کے سلسلہ میں گورداسپور گئے ہوئے تھے کہ وہاں انہیں خبر ملی کہ انکے والد میاں محمد کے مکان پر آنا جانا شروع کیا۔بے شک آپ ایک کوٹھڑی میں رہتے تھے جو بیت الفکر کے صدیق صاحب بیمار ہیں۔چنانچہ یہ تینوں بھائی حضور علیہ السلام سے اجازت لے کر سیکھواں نام پر کتابوں میں درج ہے۔پہنچے لیکن وہاں پہنچنے سے قبل ہی انکے والد صاحب فوت ہو چکے تھے۔اس وقت ابھی بہشتی مقبرہ کا قیام نہیں ہوا تھا اسلئے تدفین سیکھواں ہی میں ہوئی۔جب کبھی میں جاتا تو آپ ٹہلتے نظر آتے اور کچھ لکھتے رہتے تھے۔اس وقت کچھ صحن ہوتا تھا۔وہاں ہی ٹہلتے پھرتے اور میں جب کبھی جاتا تو خاموش بیٹھ جاتا۔آپ کے چہرہ کی