سیکھوانی برادران

by Other Authors

Page 16 of 20

سیکھوانی برادران — Page 16

29 28 میرے دادا میاں امام الدین صاحب سیکھوانی کا ایک وقار اور عزت تھی۔اپنے گاؤں امام کی قربت سیکھواں میں بھی اپنے اور غیر سبھی بہت عزت سے پیش آتے تھے اور احترام کرتے تھے اور بہت سے احباب جھگڑوں وغیرہ کے فیصلے بھی ان سے کروایا کرتے تھے۔جب میں 1990ء آپ کی ہمیشہ کوشش ہوتی کہ مسیج پاک علیہ السلام کے قرب میں رہیں اور جس حد تک ممکن ہو برکات حاصل کریں۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے ہمراہ مختلف سفروں میں بھی میں اپنے بچوں کو لے کر سیکھواں دیکھنے گیا تو وہاں بعض سکھ احباب اس زمانہ کے بھی تھے جو آپ ساتھ رہے، ہر تحریک پر لبیک کہتے ہوئے حسب استطاعت حصہ لیتے رہے اور مختلف بہت پیار و محبت سے پیش آئے اور ہمارے دادا جان اور انکے بھائیوں کی تعریف میں رنگوں میں خدمت کی توفیق پاتے رہے۔آپ کے ایک عزیز دوست منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی بیان کرتے ہیں کہ ان تینوں بھائیوں کی وجہ سے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رطب اللسان تھے۔دعا گو اور مستجاب الدعوات زیارت انہیں نصیب ہوئی اور بیعت کا شرف حاصل ہوا اور شاذ و نادر ہی کبھی کوئی دن آپ ایک دعا گو، تہجد گزار صوم صلوہ کے پابند اور مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔اپنی گزرتا تھا کہ میں مع میاں جمال الدین وغیرہ قادیان نہ آتا ورنہ ہر روز قادیان آنا ہمارا وفات سے چند سال قبل آپکو اپنی وفات کا احساس بھی جبکہ بڑھ گیا تھا تو آپ نے اپنی معمول تھا۔اگر کبھی عشاء کے وقت بھی قادیان آنے کا خیال آتا تو اسی وقت ہم چاروں چل زیادتی عمر کیلئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔اس بارہ میں آپ نے اپنے بیٹے حضرت مولانا پڑتے اور باوجو د سردیوں کے موسم کے نہر میں سے گزر کر قادیان پہنچ جاتے۔اگر ہم میں جلال الدین شمس صاحب کو 11 جولائی 1937ء کے خط میں تحریر فریا کہ سے کوئی کسی روز کسی مجبوری کی وجہ سے قادیان نہ پہنچ سکتا تو باقی پہنچ جاتے اور واپس جاکر میں جب بیمار تھا اور اپنی فصل ربیع کٹوانے کے لئے گاؤں میں گیا ہوا تھا۔مجھے کچھ غیر حاضر کوسب باتیں سُنا دیتے۔“ بخار کھانسی تھی۔عشاء کے بعد جب میں چار پائی پر لیٹ گیا تو مجھے خیال آیا۔ابھی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں اگر میری اجل قریب ہے تو تو ( بخدا) زیادہ کرسکتا ہے کیونکہ مولوی (سیرۃ المہدی حصہ سوم۔روایت نمبر 659 صفحہ 113) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہر مجلس میں اور جلسوں میں شامل ہونے کو آپ موجب جلال الدین یہاں نہیں عمر زیادہ کرنے سے تیری ذات کو کوئی روکنے والا نہیں۔جب صبح سعادت سمجھتے اور تکلیف اٹھا کر بھی وہاں پہنچتے۔اسی طرح ”اسلامی اصول کی فلاسفی“ قریباً تین بجے تھے مجھے آواز آئی۔السلام علیکم بڑی بلند آواز سے۔میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔میں مضمون جو لاہور میں پڑھا گیا تھا، اسمیں بھی آپ شامل تھے اور امرتسر میں ڈپٹی عبد اللہ آتھم نے چار پائی کے چاروں طرف دیکھا تو کوئی شخص معلوم نہ ہوا۔میں نے سمجھا کہ فرشتہ کی کے ساتھ جو تحریری مناظرہ ہوا جو جنگ مقدس کے نام سے چھپ چکا ہے ،اس موقع پر بھی طرف سے سلامتی کا لفظ ہے۔ابھی اچھی عمر کا کچھ حصہ رکھا ہے یہ اس کا فضل ہے۔‘ اس آپ حضور علیہ السلام کے قرب میں تھے۔کے بعد آپ تقریباً چار سال تک زندہ رہے۔حضرت میاں امام الدین سیکھوانی بہت ہی خوش قسمت انسان تھے کہ آپ نے نہ (روز نامه الفضل قادیان۔8 جولائی 1941ء) صرف اس مسیح موعود کا زمانہ پایا ( جسکے انتظار میں لاکھوں کروڑوں انسان اپنی خواہش پورا