سیکھوانی برادران — Page 17
31 30 ہوئے بغیر فوت ہو گئے ) بلکہ خدا تعالیٰ نے آپکو اس کے اولین رفقاء اور خدام میں شامل معہ اہل بیت اپنے تین سو تیرہ ( رفقاء) کی فہرست میں شامل فرمایا۔وَذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ ہونے کی سعادت عطا فرمائی اور خدا تعالیٰ کے اس مقدس مسیح نے آپکے حق میں اپنے دست يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ مبارک سے تحریر فرمایا کہ آپ نے عہد بیعت کو کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کریں گے، پورا کر دکھایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قرب کے علاوہ آپ کو حضرت خلیفہ امسح الاول نور اللہ مرقدہ کی خلافت میں بھی خدمات سلسلہ کی توفیق ملتی رہی اور آپ نے حضرت مصلح موعود کے با برکت دور خلافت کے بھی کئی سال دیکھے۔درج ہیں۔اطاعت امام اور بے لوث قربانیوں کا آپکو اللہ تعالیٰ نے یہ صلہ عطا فرمایا کہ آپکی اولاد در اولاد کو اللہ تعالیٰ نے بے حد نوازا ہے اور دین و دنیا میں اپنے فضلوں کا وارث بنایا ہے۔دعا ہے کہ خدا تعالیٰ نہ صرف آپکو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اپنے آقا شادی کے قدموں میں جگہ دے بلکہ آپکی اولاد در اولاد کا بھی حامی و ناصر رہے اور انہیں بھی ہمیشہ اپنے قرب خاص سے نوازتا چلا جائے۔آمین حضرت میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی ور علیہ السلام نے جو رجسٹر بیعت اولی تیار فرمایا تھا اس میں آپ کے کوائف یوں نمبر شمار : 151 تاریخ هجری تاریخ عیسوی 23 نومبر 1889ء بروز جمعہ نام مع والدین میاں خیر الدین ولد محمد صدیق قوم وائیں عرف کشمیری۔موضع سیکھوان ضلع و تحصیل گورداسپور بقلم خود (رجسٹر بیعت اولی۔نمبر شمار 151 - از خلافت لائبریری۔ربوہ ) آپ کی شادی محترمہ امیر بی بی صاحبہ سے ہوئی تھی جو قادیان کی رہنے والی تھیں اور خواجہ محمد شریف صاحب آف قادیان کی پھوپھی اور بابا نظام الدین صاحب کی بیٹی تھیں۔بابا نظام الدین صاحب کے بہنوئی حضرت میاں محمد صدیق صاحب (حضرت میاں جمال الدین صاحب سیکھوانی۔حضرت میاں امام الدین صاحب سیکھوانی آپ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔آپ اندازاً1869ء میں پیدا اور حضرت میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی ) کے والد اور حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے ہوئے۔آپ کا بھی اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ہمراہ سیکھواں سے قادیان آنا جانا رفقاء میں سے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی سے پہلے سے جاری تھا۔بیعت آپ کو بھی اپنے بہن بھائیوں، والدین اور بزرگوں سمیت امام الزمان حضرت مسیح محترمہ امیر بی بی صاحبہ کے متعلق انکے بیٹے مولا نا قمرالدین صاحب (جنہیں خدام الاحمدیہ کے پہلے صدر ہونے کا اعزاز حاصل ہے ) تحریر فرماتے ہیں کہ ” گاؤں کی بہت سی احمدی اور غیر احمدی لڑکیوں نے محترمہ والدہ صاحبہ سے قرآن موعود علیہ السلام کی بیعت کرنے کا شرف حاصل ہوا اور حضور علیہ السلام نے آپکو بھی کریم ناظرہ اور با ترجمہ پڑھا تھا۔دینی مسائل اور عبادات میں شغف رکھتی تھیں۔ہماری