سیکھوانی برادران

by Other Authors

Page 11 of 20

سیکھوانی برادران — Page 11

19 18 حضرت خلیفہ اسیح سے عقیدت آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلفاء کرام کے ساتھ بھی بے انتہا محبت اور عقیدت تھی۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی (نوراللہ مرقدہ) کے بارہ میں مختلف پیشگوئیوں کو پورا خوب خدمت کرتے رہے۔جب آپکے بیٹے (میرے والد محترم) حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب کو دعوت الی اللہ کے لئے انگلستان بھجوایا گیا تو آپ کے کہنے پر حضرت میاں امام الدین صاحب قادیان منتقل ہو گئے تا کہ اپنی بہو اور انکے بچوں کے پاس رہ سکیں۔لیکن اسکے باوجود آپ نے جماعت سیکھواں کا کام اپنے ذمہ رکھا اور قادیان میں بھی ہوتے دیکھا تھا اس لئے ان کیلئے دل میں بہت عظمت تھی۔جب شیخ مصری کا فتنہ اٹھا اور اس سلسلہ میں اشتہارات نکالنے کی تجویز ہوئی تو میاں امام دین صاحب کے بیٹے مولانا مفوضہ کام نہایت خوبی سے سرانجام دیتے رہے۔آپکے اخلاص اور ایمان کی پختگی کا حال کسی قدر اس واقعہ سے پتہ لگ سکتا ہے کہ ایک جلال الدین شمس صاحب نے جو ان دنوں انگلستان میں (مربی) کا فریضہ انجام دے دفعہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے حکم سے بعض ( مربیان ) کو تحصیل شکر گڑھ بھیجا گیا۔وہاں رہے تھے، انہیں لکھا کہ وہ اس تحریک میں ان کی طرف سے حضور کی خدمت میں حاضر ہوکر دور و پیہ پیش کریں۔چنانچہ اس ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے مولانا شمس صاحب کو مواشہ قوم کے متعلق خیال تھا کہ وہ دین حق کے قریب آرہی ہے۔چنانچہ (مربیان ) کی لکھا کہ رقم پیش کرنے کے بعد میں نے کچھ اپنے متعلق حضور سے عرض کرنا چاہا لیکن مجھ پر کوششوں سے کئی لوگ (مومن) ہونے کے لئے تیار ہو گئے۔جب حضور کی خدمت میں رقت طاری ہو گئی اور کچھ کہہ نہ سکا۔حضور سے ملاقات کرتے وقت اکثر آپ کی یہی اطلاع بھجوائی گئی تو حضور نے بیعت لینے کے لئے حضرت میاں امام الدین کو منتخب فرمایا۔کیفیت ہوا کرتی تھی۔جب گورداسپور میں مولوی کرم دین صاحب سکنہ بھیں (ضلع شیخ مصری صاحب نے کہا کہ یہ شخص سادہ سا ہے اسے بھی نا مناسب نہیں۔لیکن حضور نے جہلم کے مقدمہ کے سلسلہ میں عدالت میں پیشیاں پے درپے ہوتی رہیں اور دوسال ان کا مشورہ قبول نہیں کیا اور فرمایا کہ آپ لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان مقدمہ چلتا رہا، حضرت میاں امام الدین صاحب نے گورداسپور میں ایک مکان کرایہ پر لیا ( رفقاء) کی قدرومنزلت معلوم نہیں۔جب کوئی (مربی) نہ تھا تو یہی لوگ (دعوت الی اللہ ) اور وہیں قیام کیا اور حضرت اقدس کو دبانے کی خدمت سرانجام دیتے رہے۔کرتے تھے اور دین حق لوگوں تک پہنچاتے تھے۔چنانچہ آپ کو تحصیل شکر گڑھ بھیجا گیا۔آپ نے کئی روز تک وہاں قیام فرمایا اور بیعت لی۔(روز نامہ الفضل یکم مئی 1980ء۔روز نامہ الفضل 8 ستمبر 2000ء) خلافتہ ثانیہ کے شروع میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے جماعتوں کو سمجھانے کیلئے ضلع گورداسپور اور ضلع سیالکوٹ میں ایک وفد بھجوایا تھا۔اس وفد میں آپ آپ کی شادی بھی شامل تھے۔روزنامه الفضل قادیان - 16 / ہجرت 1320 ہش۔صفحہ 5) آپ کی شادی بھا گو وال تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور کے ایک خاندان میں حضرت آپ جب تک سیکھواں میں مقیم رہے اس جماعت کے سیکرٹری رہے اور جماعت کی میاں کریم بخش صاحب ( جو 313 ( رفقاء) میں سے تھے ) کی بیٹی حضرت حسین بی بی