سیکھوانی برادران

by Other Authors

Page 18 of 20

سیکھوانی برادران — Page 18

33 32 پھوپھی مائی کا کو کے ہمراہ جمعہ کی نماز پڑھنے قادیان جایا کرتی تھیں اور گاؤں کی دوسری مستورات بھی۔فَالْحَمْدُ لِلهِ عَلی ذَالِکَ۔ایک مرتبہ والدہ صاحبہ نے حضرت مسیح موعود ایک عظیم سعادت علیہ السلام سے نماز مغرب کے متعلق سوال کیا کہ کھانا پکانے کا وقت ہوتا ہے ، کیسے ادا کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام بالعموم نماز با جماعت کی امامت خود نہیں فرمایا کرتے تھے جائے؟ حضور نے فرمایا۔کھانا مغرب سے پہلے پکا لیا کریں اور نماز وقت پر پڑھیں۔حضور اور بہت کم نمازوں کی امامت آپ نے فرمائی ہے۔21 / جولائی 1904ء کو جب حضور گورداسپور تشریف لے گئے ہوئے تھے تو چند احباب کو حضور علیہ السلام کی اقتداء میں نماز نے یہ ارشاد بڑی تاکید سے فرمایا۔۔۔۔۔محتر مہ والدہ صاحبہ کو ہم نے پابند صوم وصلوٰۃ اور باقاعدگی سے نماز تہجد پڑھنے والی ظہر و عصر باجماعت پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی ان میں حضرت میاں خیر الدین پایا۔آپ اخلاق فاضلہ سے متصف تھیں۔آپکی نیکی اور تقوی وطہارت کی وجہ سے بہت سی صاحب سیکھوانی بھی تھے۔66 مستورات آپ سے دعا کراتی تھیں۔“ (ماہنامہ مصباح ربوہ سالنامہ 1969ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سفر حضور علیہ السلام نے مختلف شہروں کا جو سفر فر مایا نیز آپکو مختلف مقدمات کی پیروی کے سلسلہ میں جو سفر کرنے پڑے ان میں سے متعد د سفروں میں تینوں سیکھوانی بھائیوں نے بڑے ذوق و شوق اور عقیدت کے ساتھ اپنے آقا کا قرب حاصل کرنے کوشش کی۔تاریخ جسے اللہ رکھے البدر قادیان 24 جولائی 1904ء) محترمہ آپا صفیہ بیگم اہلیہ بشیر احمد حیات صاحب مرحوم ( بنت مولانا قمر الدین صاحب) نے مجھے بتایا کہ ہندوستان کی تقسیم کے دنوں میں جس روز قادیان پر حملہ ہوا، انکے دادا میاں خیر الدین صاحب گھر سے باہر چہل قدمی کیلئے گئے ہوئے تھے۔راستہ میں انہوں نے قرآن کریم کے چند اوراق بکھرے پڑے پائے جنہیں انہوں نے اٹھا لیا۔اسی احمدیت جلد دوم صفحہ 44 پر سفر دھاریوال کے بارہ میں لکھا ہے کہ چونکہ دھار یوال میں حضور اثناء میں چند سکھوں کا ادھر سے گزر ہوا اور انہوں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا کاغذ ہیں؟ کی جائے قیام کیلئے کوئی انتظام مشکل تھا اس لئے میاں نبی بخش صاحب نمبردار بٹالہ، میاں صاحب نے فرمایا کہ یہ ہماری مذہبی کتاب قرآن کریم کے اوراق ہیں۔خدا تعالیٰ کا یہ میاں عبدالعزیز صاحب پٹواری، میاں جمال الدین صاحب سیکھوانی اور میاں خیر الدین تصرف ہوا کہ وہ سکھ حضرات یہ سن کر بغیر کچھ کہے وہاں سے آگے نکل گئے اور حضرت میاں صاحب سیکھوانی وغیرہ نے دھار یوال سے ایک میل کے فاصلہ پر موضع لیل میں حضرت صاحب کو کوئی بھی نقصان نہیں پہنچایا حالانکہ بالخصوص اس روز جس دن قادیان پرحملہ ہوا اقدس اور دیگر احباب جماعت کے قیام و طعام کا ایک وسیع مکان میں انتظام کر لیا تھا۔“ تھا، جو بھی قابو میں آجاتا تھا، اُسے زندہ نہیں چھوڑا جاتا تھا۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ (روز نامہ الفضل 3 / جولائی 2006ء صفحہ 3) آپ کسی نقصان سے محفوظ رہے۔