سیکھوانی برادران

by Other Authors

Page 5 of 20

سیکھوانی برادران — Page 5

7 6 حضرت میاں امام الدین صاحب بیعت کرنے کے بارہ میں تحریر فرماتے ہیں: کیا جائے۔اور وہ صفتیں یہ ہیں: دیانت ہمحنت علم۔جب تک کہ یہ تینوں صفتیں موجود نہ ہوں فرمایا: کارکن آدمی ہر جگہ جماعت کے اندرمل سکتے ہیں۔ایسے لوگوں کو ذاتی اخراجات جس وقت حضور نے بیعت کا اشتہار دیا تو لدھیانہ میں حضور نے بیعت لینی شروع تب تک انسان کسی کام کے لائق نہیں ہوتا۔۔۔غرض ہر سہ صفات کا ہونا ضروری ہے۔کی۔جب حضرت اقدس علیہ السلام لدھیانہ سے قادیان تشریف لائے ہم تینوں بھائی حضور کے پاس آئے۔عرض کی کہ حضور ہم کو بھی بیعت میں داخل کر لیں تو حضور نے منظور کے واسطے جو کچھ دیا جاوے وہ بھی ناگوار نہیں گزرتا خواہ وہ معمولی واعظ کی تنخواہ سے زیادہ ہو فرما کر ہاتھ مبارک نکال کر ہاتھ میں ہاتھ لے کر بیعت لی۔پھر حضور ایک رجسٹر لائے جس کیونکہ کارکن کو جو کچھ دیا جائے وہ ٹھکانے پر لگتا ہے۔اس میں کوئی اسراف نہیں۔“ پر پہلی بیعت مولوی نورالدین صاحب کی تھی باقی اور دوستوں کے نام تھے۔قریب ڈیڑھ صد سیکھوانی برادران میاں جمال الدین ، میاں امام الدین ، میاں خیر الدین صاحبان کا 66 نمبر کی تعداد تھی جو ہم نے تینوں بھائیوں نے اپنے ہاتھ سے نام لکھے تھے۔“ (رجسٹر روایات نمبر 5 صفحہ 58) ایک دوست نے ذکر کیا کہ وہ بھی اس کام کے واسطے رکھے جاسکتے ہیں۔حضرت نے فرمایا: بے شک وہ بہت موزوں ہیں۔مخلص آدمی ہیں۔ہمیشہ اپنی طاقت سے بڑھ کر خدمت کرتے ہیں۔تینوں بھائی ایک ہی صفت کے ہیں۔میں نہیں جانتا کہ کون ان میں سے عظیم الشان سعادت سیکھوانی برادران کو یہ عظیم الشان سعادت حاصل ہے کہ حضرت مسیح پاک علیہ السلام دوسروں سے بڑھ کر ہے۔“ نے اپنی کتب، اشتہارات اور ملفوظات میں مختلف مقامات پر ان تینوں بھائیوں کا ذکر خیر فرمایا ہے اور بعض جگہوں پر انکے والد محترم کا بھی ان کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔جماعت احمدیہ کا پہلا جلسہ سالانہ 1891ء میں قادیان میں منعقد ہوا جس میں 75 امام وقت کی آواز پر لبیک احباب نے شرکت فرمائی۔حضور علیہ السلام نے اپنی تصنیف ” آسمانی فیصلہ “ میں ان احباب ( ملفوظات جلد پنجم مطبوعہ ہندوستان ایڈیشن 2003 صفحہ نمبر 269) ہمیشہ برکت اس میں ہوتی ہے کہ امام وقت کی آوز پر لبیک کہتے ہوئے جہاں تک ممکن کرام کی فہرست بھی درج فرمائی ہے۔اس فہرست میں تینوں سیکھوانی برادران کے نام بھی ہو اسکی ہر تحریک میں حصہ لیا جائے۔اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم میں وعدہ ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی شامل ہیں اور ان کے ساتھ ان کے ماموں حضرت میاں جان محمد صاحب کا نام بھی شامل ہے۔قابل اعتماد خاطر اپنی جانوں اور اموال کو پیش کرتے ہیں تو اسکے بدلہ میں وہ انہیں جنت عطا فرمائیگا۔الفاظ یوں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو (اس وعدہ کے ساتھ ) سلسلہ کے کارکنان کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مرتبہ فرمایا کہ خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی۔”جب تک کسی میں تین صفتیں نہ ہوں وہ اس لائق نہیں ہوتا کہ ان کے سپرد کوئی کام (سورۃ التوبہ۔آیت نمبر 111)