سیکھوانی برادران — Page 4
5 4 طرف دیکھتا رہتا۔نہایت روشن ہوتا تھا۔گویا خاص طور پر نور الہی چمکتا تھا۔وہ زمانہ آپ کھایا کرو۔پھر بموجب حکم حضوڑ کے کھانا شروع کر دیا۔آج تک خدا کے فضل سے حضور کا براہین احمدیہ ) لکھنے کا تھا۔پھر آپ کے کچھ اشتہار نکلنے شروع ہوئے۔مگر میں اس وقت کے گھر کے مہمان رہے ہیں۔ابتداء میں گھر سے کھانا تیار ہو کر آتا تھا۔لنگر خانہ موجود نہیں پڑھا ہوا نہیں تھا۔کچھ باتیں حضرت صاحب کی اپنے بڑے بھائی جمال الدین مرحوم سے سنا تھا۔یہ بعد ہوا ہے۔حضرت صاحب خود بھی مہمانوں میں بیٹھ کر کھانا کھایا کرتے تھے۔جو کرتا تھا۔آج فلاں مختلف مذہب یعنی عیسائی وغیرہ کے اشتہار کا جواب دیا ہے۔یہ مجھ سے گول کمرہ ہے اس میں کھانا کھلایا جاتا تھا۔( بیت ) مبارک کی چھت پر کچھ زمانہ سب عمر میں بڑا تھا اس واسطے اس کی آمد و رفت مجھ سے پہلے تھی۔یہ مجھ سے زیادہ واقفیت رکھتا مہمانوں میں آپ بیٹھ کر کھانا کھاتے رہے ہیں۔شام کی نماز پڑھ کر بیٹھ جاتے۔پھر گفتگو تھا۔میں جب اپنے گاؤں سے آتا تو نماز ( بیت ) اقصیٰ میں پڑھا کرتا تھا۔وہاں حضرت ہوتی رہتی اور عشاء کی نماز پڑھ کر تشریف لے جاتے اور کھانا حضور جو کھاتے بہت تھوڑا سا صاحب بھی گاہے گا ہے آکر نماز پڑھا کرتے تھے اور ٹہلتے بھی رہتے تھے اور میاں جان محمد ٹکڑا منہ میں ڈالتے اور بہت آہستہ آہستہ کھاتے اور کچھ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے دستر خوان مرحوم امام ہوتے تھے اور گا ہے گا ہے آپ بھی نماز پڑھا دیتے تھے اور چند کس نمازی ہوتے پر گراتے اور چھوٹا سا ٹکڑا منہ میں ڈالتے۔بالکل تھوڑا کھانا کھاتے تھے۔تھے۔عام طور پر نمازی نہیں ہوتے تھے اس وقت یہ حالت تھی۔جب آپ کی بہت شہرت ہوگئی تو آپ کے بہت مضامین مخالف مذاہب کی تردید کے نکلتے رہتے تھے۔پھر جب میں کبھی آتا تو حضور کے پاس جاتا کیونکہ آپ کی محبت کے سوا کچھ معلوم نہیں ہوتا تھا۔پھر آپ نے ایک اشتہار چندہ کے متعلق شائع کیا اور میں اور بھائی خیرالدین صاحب نے 4 /آنہ رجسٹر روایات نمبر 7 صفحہ 422-420) سیکھوانی برادران نے ایک ہی روز 23 نومبر 1889ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ماہوار مقرر کر کے چندہ پیش کیا تو حضور نے فرمایا۔یہ کام بڑا ہے دیکھو تم غریب ہو۔ہم نے کے دست مبارک پر اجتماعی بیعت کرنے کی سعادت حاصل کی۔مولانا دوست محمد شاہد کہا حضوڑا انشاء اللہ بڑی خوشی سے ادا کریں گے۔تو پھر حضور نے منظور فرمایا۔بفضل خدا آج صاحب تحریر فرماتے ہیں۔” دائگی مرکز احمدیت قادیان دارالامان کے ماحول میں واقع گاؤں سیکھواں اور سیکھوانی برادران یعنی حضرت مولوی جمال الدین صاحب ، حضرت میاں تک عمل ہوتا رہا ہے۔ہم تین بھائی ہیں بڑے کا نام جمال الدین اور میرا نام امام الدین سیکھوانی اور مجھ سے امام الدین صاحب اور حضرت میاں خیر الدین صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں۔تینوں چھوٹے کا نام خیر الدین ہے۔اور جب ہم قادیان میں آتے کھانا اپنے رشتہ داروں کے گھر متدین بزرگوں کو دعوئی ماموریت سے بھی قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ذاتی روابط سے کھاتے اور پھر اس مجلس میں بہت وقت گذر جاتا کیونکہ حضرت صاحب ان ایام میں اور دلی عقیدت کا شرف حاصل تھا۔تینوں نے ایک ہی دن 23 نومبر 1889ء کو اجتماعی جب ( بیت ) مبارک میں (نداء) ہوتی تو آجاتے تھے۔پھر بہت گفتگو ہوتی رہتی تھی۔بیعت کی اور تینوں کا نام بنفس نفیس حضرت اقدس نے 313 رفقاء کی فہرست ضمیمہ انجام آتھم تو پھر ایک دن حضرت صاحب نے مجھ کو کہا تم آج سے ہمارے مہمان ہو۔یہاں سے کھانا میں اپنے قلم سے درج فرمایا۔“