سیکھوانی برادران

by Other Authors

Page 14 of 20

سیکھوانی برادران — Page 14

25 24 سواب کوشش کرو کہ اللہ تعالیٰ دین میں قوت عطا فرمائے۔اب خدا تعالیٰ نے آں عزیز ایک خط لکھ کر بھجوایا جو ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت میاں امام الدین صاحب اس جدائی کو محض اللہ کی خاطر قبول کرتے ہوئے کس قدر تڑپ رکھتے کے سپرد یہ کام کیا ہے نہایت مضبوطی دل سے یہ کام کرنا گھبرانا نہیں۔آنکھوں کے سامنے تھے کہ انکا بیٹا اللہ تعالیٰ کی خاطر خدمات بجالاتا رہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں: عزیزم مولوی جلال الدین فاضل سلمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ وہ نظارے رکھنے چاہئیں۔کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دل چاہتا تھا کہ ہاجرہ اور اپنے بچے اسماعیل کو جنگل میں چھوڑ آؤں؟ مگر وہ کام خدا کے حکم کے ماتحت کرتے تھے۔پھر انہیں اس تابعداری کے کیا مراتب ملے۔آج دنیا ان کی سنت پر چلتی ہے۔علی ہذا القیاس دو خطوط آں عزیز کے پہنچ گئے۔نہایت خوشی حاصل ہوئی۔تمام حالات سے آگاہی بہت نظیر میں قرآن شریف سے مل سکتی ہیں۔دعا بہت چاہئے۔یہ دن خدا کے ملنے کے دن ہیں اور ہم دعا کرتے ہیں خدا تعالیٰ کامیابی عطا کرے۔امام الدین از سیکھواں بقلم خود“ الفضل قادیان - 29 /اکتوبر 1925 ء صفحه ۲) حاصل ہوئی۔گو جدائی کے صدمات ہوتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے جو آں عزیز کو مرتبہ عطا کیا ہے ہر ایک کو نہیں ملتا۔دعوت الی اللہ) کا کام سنت نبوی ﷺ ہے۔سوحضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آں عزیز کو پسند فرما کر بھیجا ہے اللہ تعالیٰ اس کام میں برکت عطا فرمائے اور ہر ایک طرح دین کی نصرت عطا فرمائے۔جو حالات لوگوں کے تحریر تربیت اولاد کئے ہیں یہ حالات ہمیشہ ہی رسولوں کے وقت ہوتے رہے ہیں اور لوگ یہی کہتے رہے سے سب سے زیادہ جو قادیان میں اپنے گاؤں سے جمعہ کی نماز ادا کرنے کیلئے آیا کرتے ہیں۔مگر کیا لوگ اپنی باتوں میں کامیاب ہوئے یا رسولوں کو کامیابی ہوئی ؟ الٹھی وعدہ ہے کہ تھے وہ آپ ہی تھے۔آپ اپنے ہمراہ اپنے بیٹے جلال الدین شمس صاحب کو بھی ہمراہ لے آپ نے اپنے بچوں کی تربیت عمدگی سے انکے بچپن سے ہی کی۔اپنے بھائیوں میں وہ آخر کار اپنے رسولوں کی مددکرتا ہے۔بیشک اللہ تعالیٰ کا ہر دل پر قبضہ ہے جو چاہتا ہے کرتا کر جایا کرتے تھے جو اُس وقت محض پانچ چھ سال کے تھے۔پھر بچپن ہی میں آپ نے ہے اور یہ یقین ہے اور ایمان ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو وعدے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ بچوں کو مختلف دعا ئیں جیسے رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِي وَانْصُرُنِي وَ والسلام سے کئے ہیں پورے ہوں گے اور ضرور ہوں گے۔یہ کام تو خدا تعالیٰ خود اپنے فضل ارْحَمُنِی وغیرہ یاد کروائی ہوئی تھیں۔اپنے بیٹے سے اخبار بدر، الحکم اور ار دور یو یوآف سے کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔بمفت ایں اجر نصرت را د ہندت اے اخی ورنہ قضائے آسمان است ایں بہر حالت شود پیدا بکوشید اے جواناں تا بدیں قوت شود پیدا بهار و رونق اندر روضه ملت شود پیدا رپیچز کے پرچے پڑھوا کر سنا کرتے تھے۔اس طرح دونوں کے علم میں اضافہ ہوتا تھا اور تربیت بھی۔مدرسہ احمدیہ میں تعلیم کے بارہ میں حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب تحریر فرماتے ہیں ” جب میں مدرسہ احمدیہ کی دوسری جماعت میں پڑھتا تھا، اس وقت ہم سات طالبعلم گاؤں سے روزانہ آیا کرتے تھے۔لیکن جب میں تیسری جماعت میں ہوا تو