سیکھوانی برادران

by Other Authors

Page 13 of 20

سیکھوانی برادران — Page 13

23 22 نہیں تو پھر آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام حالات ہدایت کر جاتے کہ آپ لوگ سردی میں آئے ہیں کہیں سردی نہ لگ جائے۔عرض کرنے کے بعد مناظرہ کی اجازت مانگی۔لیکن حضور نے پھر یہی فرمایا کہ مناظرہ کرنے کی اجازت نہیں۔میاں صاحب فرمایا کرتے تھے کہ انہوں نے سارا دن گاؤں عزم و ہمت اور صبر واستقلال سے باہر گزارا مگر مناظرہ سے انکار کر دیا۔اور دوسری طرف مخالف جو منہ میں آیا کہتے جب آپکے بیٹے حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس ( دعوت دین حق ) کی غرض رہے۔بالآخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس فرمان کا یہ اثر ہوا کہ چند غیر احمدی شرفاء سے فلسطین میں تھے اور مخالفت زوروں پر تھی۔بڑوں سے لیکر چھوٹوں تک آپکی مخالفت نے ان مولویوں کو انکی بد زبانی کی وجہ سے خود گاؤں سے باہر نکال دیا اور دوسرے تیسرے کر رہے تھے۔بعض مشائخ آپکے منہ پر کہتے تھے کہ تم واجب القتل ہو۔ان ہی ایام میں دن جمعہ کی نماز کے لئے 16,15 آدمی قادیان گئے تا کہ یہ دیکھیں کہ جس شخص کو یہ مولوی حضرت شمس صاحب کے بڑے اور اکلوتے بھائی بشیر احمد صاحب وفات پاگئے جنہوں نے برا بھلا کہتے ہیں کیا وہ واقعی ایسا ہے؟ سب کے سب دوست جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد آخری ایام میں حضرت شمس صاحب سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔اس بارہ میں حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیعت کے لئے عرض کیا۔اس طرح وہ حضرت شمس صاحب تحریر فرماتے ہیں: لوگ سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔والد صاحب نے مجھے لکھا کہ تمہاری والدہ کی خواہش تھی کہ حضرت صاحب سے میاں صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا ایمان ہے کہ اگر مناظرہ ہوتا تو شاید اس وقت عرض کروں لیکن تم (دعوت الی اللہ ) کے کام میں مصروف ہو۔میں نے کہنا مناسب نہ ایک بھی احمدی نہ ہوتا۔لیکن چونکہ حضور کی زبان میں برکت ہے اس لئے مناظرہ نہ ہونے سمجھا۔لیکن اس سے قبل کا کو ( میری پھوپھی صاحبہ عرف مائی کا کو) نے ایک دفعہ حضور علیہ کی صورت میں غیر احمدی مولویوں کی بد زبانی کا بُرا اثر پڑا اور احمدیوں کی شرافت کا اچھا اثر السلام سے عرض کیا تھا تو حضور نے فرمایا ہمیں ان کے متعلق آپ کی نسبت زیادہ فکر ہے۔چند روز کے بعد بھائی مرحوم کی وفات کی خبر ناظر صاحب ( دعوت الی اللہ ) کی طرف سے ہوا اور کئی لوگ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔(روز نامہ الفضل قادیان - 8 و فار جولائی 1320 ھش۔1941ء) روزنامه الفضل قادیان۔23 مئی 1941 ء صفحہ 3) بذریعہ تار پہنچی۔بعد میں والد صاحب مرحوم کا خط ملا جس میں آپ نے قضاء الٹی پر رضا کا حضرت حکیم محمد اسماعیل صاحب ابن حضرت میاں جمال الدین صاحب سیکھوانی بیان اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمہاری والدہ نے بھی قابل تعریف صبر کا نمونہ دکھایا ہے۔“ کرتے ہیں کہ حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ کا بیان ہے کہ میں چونکہ فیض اللہ چک کا رہنے والا تھا اور سیکھواں وہاں سے قریب ہی تھا اس لئے جب ان لوگوں کی خدمات کی آپ کا ایک قابل ذکر خط ضرورت پڑتی تو مجھے بھجوایا جاتا۔تو میں صبح سویرے جا کر بتادیتا کہ حضور نے آپ کو طلب اکتوبر 1925ء میں عین جوانی کے عالم میں جب حضرت مولانا جلال الدین شمس فرمایا ہے۔تو یہ صاحبان اسی وقت قادیان روانہ ہو جاتے اور ہمیں اپنے گرم لحافوں کو لپیٹنے کی صاحب بلا د عر بیہ میں خدمات بجا لا رہے تھے تو آپکے والد محترم نے شام میں آپکے نام