سیکھوانی برادران — Page 12
21 20 صاحبہ سے ہوئی تھی۔آپ خاموش طبیعت تھیں۔اعلیٰ اخلاق کی مالک تھیں۔بچوں سے ایک نشان بہت پیار و محبت سے پیش آتیں۔آپکی وفات ربوہ میں 19 ستمبر 1960ء میں نوے سال کی عمر میں ہوئی۔آپ موصیہ تھیں۔آپ کی وصیت نمبر 434 تھا اور 1/6حصہ کی وصیت ایک مرتبہ یوں ہوا کہ آپکا بیٹا بشیر احمد ران میں گلٹی ہونے کے باعث بیمار ہو گیا۔بعض کروائی ہوئی تھی۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت 1891ء میں کی تھی۔لوگوں نے خیال کیا کہ یہ طاعون ہے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضور نے بڑے وثوق سے فرمایا کہ یہ طاعون نہیں بلکہ ” داد ہے اور بڑے اولاد جوش سے فرمایا کہ دیکھو جس کو ہم جانتے ہیں اسے بھی طاعون نہیں ہو سکتی اور جو ہمیں جانتا آپ کی اولا د کمپین ہی میں فوت ہو جاتی تھی۔چنانچہ جب کئی بچے فوت ہو گئے تو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت اقدس میں دعا کیلئے عرض کیا۔حضور نے دعا ہے اسے بھی طاعون نہیں ہو سکتی۔آپ یہ مبارک کلمات سن کر سیکھواں واپس گئے اور خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے چند دنوں ہی میں بشیر احمد کو آرام آ گیا۔کے ساتھ دوائی بھی تجویز فرمائی جس کے نتیجہ میں اس کے بعد آپ کی اولا دزندہ رہی۔آپ کے چار بچے چھوٹی عمر ہی میں وفات پاگئے تھے۔ان کے علاوہ آپ کو اللہ تعالیٰ اطاعت کا مجسم نمونہ نے پانچ بیٹیاں ہاجرہ بیگم اہلیہ حسین بخش صاحب، عائشہ بی بی اہلیہ حاجی ولی محمد صاحب، رمضان بی بی اہلیہ محمد حسین صاحب ، حمیدہ بی بی اہلیہ چوہدری وزیر محمد صاحب پٹیالوی آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اطاعت اور فرمانبرداری کے مجسم نمونہ تھے۔ہر امر میں آپکی اطاعت لازمی سمجھتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ایک مرتبہ اور بشری بی بی اہلیہ مولوی چراغ دین صاحب ( مربی سلسلہ) اور دو بیٹے بشیر احمد (اہلیہ: فاطمہ بی بی صاحبہ ) اور حضرت مولانا جلال الدین شمس ( اہلیہ: سعیده با نو بنت حضرت خواجہ دو تین مولوی موضع ہرسیاں میں آگئے اور انہوں نے ( بیت ) میں حضور علیہ السلام کے عبید اللہ صاحب (رفیق)، ریٹائر ڈ ایس ڈی او) عطا فرمائے تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم خلاف بدزبانی شروع کر دی۔ہرسیاں میں اس وقت صرف دو تین ہی احمدی تھے۔یہ لوگ سے ان سب کی اولاد اور اولاد در اولاد اپنے اپنے رنگ میں دین حق واحمدیت کی خدمت میاں امام الدین صاحب سیکھوانی کو بلانے آئے کہ چل کر ان غیر احمدی مولویوں سے بحث میں ہمہ تن مصروف ہے اور مختلف ممالک میں پھیلی ہوئی ہے۔ان میں حضرت مولانا کریں۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مناظرہ کیلئے جلال الدین صاحب شمس کی صورت میں سیکھواں سے ایک ستارہ نکلا جوش بن کر ایک لمبا اجازت مانگی جس پر حضور نے فرمایا ” بحث کرنے کی اجازت نہیں۔“ یہ سن کر میاں صاحب عرصہ اپنی بابرکت کرنوں سے ایک عالم کو مستفیض کرتا رہا اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کا سچا ہرسیاں کے احمدی احباب کے ساتھ ہر سیاں چلے آئے لیکن مناظرہ کرنے سے انکار کر دیا۔اور حقیقی خادم و وفادار بنارہا اور اپنے آقا سے خالد احمدیت کے لقب سے نوازا گیا۔آخر جب ان مولویوں نے یہ کہہ کر تنگ کرنا شروع کیا کہ مناظرہ کرنے کی جرات