سیرة النبی ﷺ — Page 145
سے نکل جاؤ۔تب آپ اپنے ایک رفیق کے ساتھ جس کا نام ابو بکر تھا نکل آئے اور خدا کا یہ معجزہ تھا کہ باوجودیکہ صدہا لوگوں نے محاصرہ کیا تھا مگر ایک شخص نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا اور آپ شہر سے باہر آگئے اور ایک پتھر پر کھڑے ہو کر مکہ کو مخاطب کر کے کہا کہ ”اے مکہ تو میرا پیارا شہر اور پیارا وطن تھا اگر میری قوم مجھ کو تجھ سے نہ نکالتی تو میں ہر گز نہ نکلتا تب اس وقت بعض پہلے نوشتوں کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ : ”وہ نبی اپنے وطن سے نکالا جائے گا مگر پھر بھی کفار نے اسی قدر پر صبر نہ کیا اور تعاقب کر کے چاہا کہ بہر حال قتل کر دیں لیکن خدا نے اپنے نبی کو اُن کے شر سے محفوظ رکھا اور آنجناب پوشیدہ طور پر مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ کی طرف چلے آئے اور پھر بھی کفار اس تدبیر میں لگے رہے کہ مسلمانوں کو بکلی نیست و نابود کر دیں اور اگر خدا تعالی کی حمایت اور نصرت نہ ہوتی تو اُن دنوں میں اسلام کا قلع قمع کرنا نہایت سہل تھا کیونکہ دشمن تو کئی لاکھ آدمی تھا مگر مکہ سے ہجرت کرنے کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق ستر ۷۰ سے زیادہ نہ تھے اور وہ بھی متفرق ملکوں کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔پس اس حالت میں ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ جبر کرنے کی کونسی صورت تھی غرض جب کافروں کا ظلم نہایت درجہ تک پہنچ گیا اور وہ کسی طرح آزار دہی سے بازنہ آئے اور انہوں نے اس بات پر مصمم ارادہ کر لیا کہ تلوار کے ساتھ مسلمانوں کا خاتمہ کر دیں تب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو دفاعی جنگ کے لئے اجازت فرمائی یعنی اس طرح کی جنگ میں جس کا مقصد صرف حفاظت خود اختیاری اور کفار کا حملہ دفع کرنا تھا جیسا کہ قرآن شریف میں تصریح سے اس بات کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ آیت یہ ہے إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُورٍ ۖ أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (الحج: 39-40) (ترجمہ) خدا کا ارادہ ہے کہ کفار کی بدی اور ظلم کو مومنوں سے دفع کرے یعنی مومنوں کو دفاعی جنگ کی اجازت دے تحقیقاً خدا خیانت پیشہ ناشکر لوگوں کو دوست نہیں رکھتا۔خدا اُن مومنوں کو لڑنے کی اجازت دیتا ہے جن پر کافر قتل کرنے کے لئے چڑھ چڑھ کے آتے ہیں اور خدا حکم دیتا ہے کہ مومن بھی کافروں کا مقابلہ کریں کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور خدا اُن کی مدد پر قدرت رکھتا ہے یعنی اگرچہ تھوڑے ہیں مگر خدا اُن کی مدد پر قادر ہے۔یہ قرآن شریف میں وہ پہلی آیت ہے جس میں مسلمانوں کو کفار کے مقابلہ کی اجازت دی گئی۔آپ خود سوچ لو کہ اس آیت سے کیا نکلتا ہے۔کیا لڑنے کے لئے خود سبقت کرنا یا مظلوم ہونے کی حالت میں اپنے بچاؤ کے لئے بھجبوری مقابلہ کرنا۔ہمارے مخالف بھی اس بات کو جانتے ہیں کہ آج 145