سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 146 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 146

ہمارے ہاتھ میں وہی قرآن ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شائع کیا تھا۔پس اُس کے اس بیان کے مقابل پر جو کچھ بر خلاف اس کے بیان کیا جائے وہ سب جھوٹ اور افترا ہے۔مسلمانوں کی قطعی اور یقینی تاریخ جس کتاب سے نکلتی ہے وہ قرآن شریف ہے۔اب ظاہر ہے کہ قرآن شریف یہی بیان کرتا ہے کہ مسلمانوں کو لڑائی کا اس وقت حکم دیا گیا تھا جب وہ ناحق قتل کئے جاتے تھے اور خدا تعالیٰ کی نظر میں مظلوم ٹھہر چکے تھے اور ایسی حالت میں دو صورتیں تھیں یا تو خدا کافروں کی تلوار سے اُس کو فنا کر دیتا اور یا مقابلہ کی اجازت دیتا اور وہ بھی اس شرط سے کہ آپ اُن کی مدد کرتا کیونکہ اُن میں جنگ کی طاقت ہی نہیں تھی۔اور پھر ایک اور آیت ہے جس میں خدا نے اس اجازت کے ساتھ ایک اور قید بھی لگادی ہے اور وہ آیت سیپارہ دوم سورۃ البقرۃ میں ہے اور اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ جو لوگ تمہیں قتل کرنے کے لئے آتے ہیں اُن کا دفع شر کے لئے مقابلہ تو کرو مگر کچھ زیادتی نہ کرو اور وہ آیت یہ ہے۔وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (البقرة: 191) یعنی خدا کی راہ میں اُن لوگوں کے ساتھ لڑو جو لڑنے میں سبقت کرتے ہیں اور تم پر چڑھ چڑھ کے آتے ہیں مگر اُن پر زیادتی نہ کرو اور تحقیقاً یاد رکھو کہ خدا از یادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا (چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 390 تا 392) واضح رہے کہ اسلام کی لڑائیاں ایسے طور سے نہیں ہوئیں کہ جیسے ایک زبر دست بادشاہ کمزور لوگوں پر چڑھائی کر کے ان کو قتل کر ڈالتا ہے بلکہ صحیح نقشہ ان لڑائیوں کا یہ ہے کہ جب ایک مدت دراز تک خدا تعالیٰ کا پاک نبی اور اس کے پیر و مخالفوں کے ہاتھ سے دکھ اٹھاتے رہے چنانچہ ان میں سے کئی قتل کئے گئے اور کئی بڑے بڑے عذابوں سے مارے گئے یہاں تک کہ ہمارے نبی صلعم کے قتل کرنے کے لئے منصوبہ کیا گیا اور یہ تمام کامیابیاں ان کے بتوں کے معبود برحق ہونے پر حمل کی گئیں اور ہجرت کی حالت میں بھی آنحضرت صلعم کو امن میں نہ چھوڑا گیا بلکہ خود آٹھ پڑاؤ تک چڑھائی کر کے خود جنگ کرنے کے لئے آئے تو اس وقت ان کے حملہ کے روکنے کے لئے اور نیز ان لوگوں کو امن میں لانے کے لئے جو اُن کے ہاتھ میں قیدیوں کی طرح تھے اور نیز اس بات کے ظاہر کرنے کے لئے کہ ان کے معبود جن کی تائید پر یہ سابقہ کامیابیاں حمل کی گئی ہیں لڑائیاں کرنے کا حکم ہوا اس لئے خدا تعالیٰ نے چاہا 146