سیرة النبی ﷺ — Page 140
تحویل قبلہ: مکہ میں آنحضور صل ال تیم خانہ کعبہ اور بیت المقدس دونوں کو سامنے رکھ کر عبادت کر لیا کرتے تھے۔مدینہ میں دونوں کا سامنے ہو نا ممکن نہ تھا۔اور نہ ہی اس بارہ میں کوئی حکم نازل ہوا تھا اس لئے آپ مالی می کنم انبیاء کی مقدس یاد گار ہونے کی وجہ سے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کیا کرتے تھے۔(14) لیکن آپ صلی علیم کے دل میں کعبہ کی تعظیم اور محبت بھی بہت زیادہ تھی۔کیونکہ یہ ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقام عبادت تھا۔اس کشمکش اور بیقراری کو اللہ تعالیٰ نے بالآخر وحی کے ذریعہ دور فرمایا۔اور آپ صلی یی کم کی دلی تمنا کے مطابق اللہ تعالیٰ نے تحویل قبلہ کا حکم نازل فرمایا۔قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلَّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلَّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ (سورة البقرة:144) یقینا ہم دیکھ چکے تھے تیرے چہرے کا آسمان کی طرف متوجہ ہونا۔پس ضرور تھا کہ ہم تجھے اس قبلہ کی طرف پھیر دیں جس پر تو راضی تھا۔پس اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لے۔اور جہاں کہیں بھی تم ہو اسی کی طرف اپنے منہ پھیر لو۔اور بے شک وہ لوگ جو کتاب دیئے گئے وہ ضرور جانتے ہیں کہ یہ اُن کے رب کی طرف سے حق ہے۔اور اللہ اس سے جو وہ کرتے ہیں غافل نہیں ہے۔ہجرت کے تقریباً ایک سال کا عرصہ گزرنے کے بعد شعبان کے مہینہ میں تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تھا۔سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے تحویل قبلہ کی غرض اور قبلہ و حجر اسود کی ضرورت و حکمت اور انکی حقیقت بیان فرمائی ہے۔”نادان لوگ نہیں جانتے کہ تحویل قبلہ اور یہ انقلاب اللہ تعالیٰ نے اس واسطے کرائے کہ تا یہ ظاہر ہو جاوے کہ مسلمان کعبہ پرست نہیں ہیں۔ہر دو متبرک مقامات جن کی بزرگی اور عزت کی وجہ سے کبھی کسی زمانے میں کسی کو ان کی پرستش کا خیال ہو سکتا تھا ان کو پیٹھ کے پیچھے کراکے اس امر کا اظہار عام طور پر کرا دیا کہ مسلمان واقعی اور حقیقی طور سے خدا پرست ہیں نہ کعبہ پرست۔بایں ہمہ یہ لوگ مسلمانوں پر حجر اسود کی پرستش کا الزام دیتے ہی جاتے ہیں۔صاف بات ہے کہ عبادت کے لئے انسان کو کسی نہ 140