سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 139 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 139

ان گیتوں میں پاکیزگی تھی۔جیسا کے اس مشہور شعر سے ظاہر ہوتا ہے جو اس موقعہ پر گایا گیا تھا: طَلَعَ البَدرُ عَلَيْنَا مِن ثنيات الوداعِ وَجَبَ الشُّكرُ عَلَيْنَا مَا دَعَا لِلَّهِ دَاعِ یعنی آج ہم پر کوہ وداع کی گھاٹیوں سے چودھویں کا چاند طلوع ہوا ہے اس لئے ہم پر اللہ کا شکر واجب ہو گیا ہے۔جب آپ صلی یہ کم کی اونٹنی بنو نجار کے محلہ میں پہنچی تو بنی نجار کی لڑکیوں نے دف بجا کر یہ گیت گائے: نحنُ جَوارِمن بني نجارِ يا حَبّذا محمّدًا من جَارِ یعنی ہم بنی نجار کی لڑکیاں ہیں اور ہم کیا ہی خوش قسمت ہیں کہ محمد صلی ا یہ کم ہمارے محلہ میں تشریف لائے ہیں۔مسجد نبوی: مدینہ آمد کے بعد آنحضور صلی ال عالم نے مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا۔یہ مسجد نبوی کہلاتی ہے۔حضور نے مسجد نبوی کا ذکر بھی فرمایا ہے۔محضور صلی الله نیم کی مسجد چند کھجوروں کی شاخوں کی تھی۔اور اسی طرح چلی آئی۔پھر حضرت عثمان نے اس لئے کہ ان کو عمارت کا شوق تھا اپنے زمانہ میں اسے پختہ بنوایا۔مجھے خیال آیا کرتا ہے کہ حضرت سلیمان اور عثمان کا قافیہ خوب ملتا ہے، شائد اسی مناسبت سے ان کو ان باتوں کا شوق تھا“ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 4 صفحہ 93) مسجد کی عمارت کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ مسجد کی عمارت غیر تراشیدہ پتھروں کی تھی جو لکڑی کے ستونوں کے در میان چنے گئے تھے، چھت پر کھجور کے تنے اور شاخیں ڈالی گئی تھیں مسجد کے اندر چھت کے سہارے کے لئے کھجور کے ستون تھے۔اور جب تک ممبر کی تجویز نہیں ہوئی تھی انہی ستونوں میں سے ایک کے ساتھ آنحضور ملی کم کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے۔ابتدا میں مسجد کا فرش کچا تھا۔زیادہ بارش کی وجہ سے چھت ٹپکتی تھی اور پانی جمع ہو کر کیچڑ بن جاتا تھا۔اس لئے فرش پر پتھر ڈال دئے گئے۔ابتدا میں مسجد کا رُخ بیت المقدس کی طرف تھا لیکن تحویل قبلہ کے بعد اس کا رُخ خانہ کعبہ کی طرف کر لیا گیا۔وہ اس طرح کہ جنوبی دروازہ کو بند کر کے مصلی بنادیا گیا اور اس کے بالمقابل شمال میں دروازہ بنا دیا گیا۔(12) مسجد کی بلندی 10 فٹ اور لمبائی 105 فٹ اور چوڑائی 90فٹ تھی۔(13) 139