سیرة النبی ﷺ — Page 138
ہیں“۔(10) اسی طرح دوسری روایات میں بھی تقریبا یہی الفاظ ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق نے سایہ کرنے کے لئے اپنی چادر اوڑھا دی۔حضور نے مذکورہ بالا ارشاد میں سے ایک میں جہاں یہ فرمایا ہے کہ ابو بکر اٹھ کر پیغمبر خداصلی اونم کو پنکھا جھلنے لگ گئے “ اس میں وقت اور مقام کی تعیین نہیں ہے۔مضمون کے لحاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباً یہ اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ کسی اور وقت رونما ہوا ہو۔بہر حال اس معمولی لفظی اختلاف سے کچھ فرق نہیں پڑتا جبکہ روایات میں بھی کہیں ستر بردائیہ اور کہیں ظلل بردائیہ اور کہیں اظل علیہ جیسے مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس واقعہ سے سیرت النبی صلی علی ریم کے ایک اہم پہلو لباس کی سادگی اور حضرت ابو بکر صدیق کی عاجزانہ اور خادمانہ راہوں پر نہایت اعلیٰ رنگ میں روشنی ڈالی ہے۔روایت میں اگر چہ پنکھا جھلنے کے الفاظ نہیں ہیں لیکن یہ الفاظ اس موقعہ پر حضرت ابو بکر صدیق کی اُن پر خلوص اور پر حکمت خادمانہ اداؤں کی بہت خوبصورتی سے منظر کشی کرتے ہیں۔حضور نے یہ الفاظ بیان فرمائے ہیں تو یقیناً یہ واقعہ رونما ہوا ہے۔اگر غور کیا جائے تو اس تناظر میں پنکھا جھلنے والی بات درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ جب طویل مسافت کے بعد آنحضور صلی ی کی قبا میں پہنچے تو وہ دن کی دھوپ کا وقت تھا ، آپ درختوں کے سایہ میں تشریف فرما ہوئے تھے۔بعض لوگوں نے لا علمی سے حضرت ابو بکر کو رسول اللہ سمجھا تو لوگوں کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے آپ جو خادمانہ حرکات بجالائے ان میں سے ایک اپنی چادر سے پنکھا جھلنا بھی ہو گا۔اور جب سورج کی شعائیں کسی طرف سے آپ پر پڑنے لگیں تو کھڑے ہو کر اپنی چادر سے سایہ کر دیا جس سے کلیتاً غلط فہمی کا ازالہ ہو گیا۔اور سب کو معلوم ہو گیا کون آتا ہے اور کون خادم ہے۔بہر حال آنحضور صلیال کو دس دن قبا میں قیام کے بعد 12 ربیع الاول 14 نبوی بروز سوموار مدینہ تشریف لے آئے۔مدینہ کے لوگوں نے آپ صلی کم کا پر جوش استقبال کیا۔مدینہ کی بچیوں نے گیت گا کر آپ صلی یی کم کا استقبال کیا اس کا ذکر بھی آپ نے فرمایا ہے۔(11) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لے گئے تو لڑکیوں نے مل کر آپ کی تعریف میں گیت گائے تھے “ 138 ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن جلد 2 صفحہ 311)