سیرة النبی ﷺ — Page 116
محققوں کے بیان سے پایا جاتا ہے کہ مہابھار تہہ وغیرہ پر ان کچھ قدیم اور پرانے نہیں ہیں بلکہ بعض پرانوں کی تالیف کو تو صرف آٹھ سو یا نو سو برس ہوا ہے۔اب قرین قیاس ہے کہ مہابھار تہہ یا اس کا واقعہ بعد مشاہدہ واقعہ شق القمر جو معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھا لکھا گیا اور بسو امتر کا نام صرف بے جاطور کی تعریف پر جیسا کہ قدیم سے ہندوؤں کے اپنے بزرگوں کی نسبت عادت ہے درج کیا گیا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کی شہرت ہندوؤں میں مؤلف تاریخ فرشتہ کے وقت میں بھی بہت کچھ پھیلی ہوئی تھی کیونکہ اس نے اپنی کتاب کے مقالہ یازدہم میں ہندوؤں سے یہ شہرت یافتہ نقل لے کر بیان کی ہے کہ شہر دہار کہ جو متصل دریائے پہنبل صوبہ مالوہ میں واقع ہے اب اس کو شاید دہارا نگری کہتے ہیں وہاں کا راجہ اپنے محل کی چھت پر بیٹھا تھا ایکبارگی اس نے دیکھا کہ چاند دو ٹکڑے ہو گیا اور پھر مل گیا اور بعد تفتیش اس راجہ پر کھل گیا کہ یہ نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے تب وہ مسلمان ہو گیا۔اس ملک کے لوگ اس کے اسلام کی وجہ یہی بیان کرتے تھے اور اس گردنواح کے ہندوؤں میں یہ ایک واقعہ مشہور تھا جس بنا پر ایک محقق مؤلف نے اپنی کتاب میں لکھا۔بہر حال جب آریہ دیں کے راجوں تک یہ خبر شہرت پاچکی ہے اور آریہ صاحبوں کے مہا بہار تہہ میں درج بھی ہو گئے اور پنڈت دیانند صاحب پر انوں کے زمانہ کو داخل زمانہ نبوی سمجھتے ہیں اور قانون قدرت کی حقیقت بھی کھل چکی تو اگر اب بھی لالہ مرلید ھر صاحب کو شق القمر میں کچھ تامل باقی ہو تو ان کی سمجھ پر ہمیں بڑے بڑے افسوس رہیں گے “ سرمه چشم آریہ ، روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 121تا127) بعض نادان شق القمر کے معجزہ پر قانون قدرت کی آڑ میں چھپ کر اعتراض کرتے ہیں لیکن ان کو اتنا معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور قوانین کا احاطہ اور اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ایک وقت تو وہ منہ سے خدا بولتے ہیں ، لیکن دوسرے وقت چہ جائیکہ ان کے دل، ان کی روح خدائے تعالیٰ کی عظیم الشان اور وراء الوراء قدرتوں کو دیکھ کر سجدہ میں گر پڑے۔اسے مطلق بھول جاتے ہیں۔اگر خدا کی ہستی اور بساط یہی ہے کہ اس کی قدرتیں اور طاقتیں ہمارے ہی خیالات اور اندازہ تک محدود ہیں، تو پھر دعا کی کیا ضرورت رہی؟ لیکن نہیں۔میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور ارادوں کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔ایسا انسان جو یہ دعویٰ کرے، وہ خدا کا منکر ہے۔لیکن کس قدر واویلا ہے اس نادان پر جو اللہ تعالیٰ کو لا محدود قدرتوں کا مالک سمجھ کر بھی یہ کہے کہ شق القمر کا معجزہ قانون قدرت کے خلاف ہے۔116