سیرة النبی ﷺ — Page 117
سمجھ لو کہ ایسا آدمی فکر سلیم اور دور اندیش دل سے بہرہ مند نہیں۔خوب یا درکھو کہ کبھی قانون قدرت پر بھروسہ نہ کر لو۔یعنی کہیں قانون قدرت کی حد نہ ٹھہر الو کہ بس خدا کی خدائی کا سارا راز یہی ہے۔پھر تو سارا تارو پود کھل گیا۔نہیں۔اس قسم کی دلیری اور جسارت نہ کرنی چاہئے۔جو انسان کو عبودیت کے درجہ سے گرا دے۔جس کا نتیجہ ہلاکت ہے۔ایسی بیوقوفی اور حماقت کہ خدا کی قدرتوں کو محصور اور محدود کرنا۔کسی مومن سے نہیں ہو سکتی۔امام فخر الدین رازی کا یہ قول بہت درست ہے کہ جو شخص خد اتعالیٰ کو عقل کے پیمانہ سے اندازہ کرنے کا ارادہ کرے گاوہ بیوقوف ہے۔دیکھو نطفہ سے انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا۔یہ لفظ کہہ دینے آسان اور بالکل آسان ہیں اور یہ بالکل معمولی سی بات نظر آتی ہے مگر یہ ایک ستر اور راز ہے کہ ایک قطرہ آب سے انسان کو پیدا کرتا ہے اور اس میں اس قسم کے قویٰ رکھ دیتا ہے۔کیا کسی عقل کی طاقت ہے کہ وہ اس کی کیفیت اور کنہ تک پہنچے۔طبیعیوں اور فلاسفروں نے بہتیر از در مارا، لیکن وہ اس کی ماہیت پر اطلاع نہ پاسکے۔اسی طرح ایک ایک ذرہ خدا تعالیٰ کے تابع ہے۔اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ یہ ظاہری نظام بھی اسی طرح رہے اور ایک خارق عادت امر بھی ظاہر ہو جاوے۔عارف لوگ ان کیفیتوں کو خوب دیکھتے اور ان سے حظ اٹھاتے ہیں۔بعض لوگ ایک ادنیٰ ادنی اور معمولی باتوں پر اعتراض کر دیتے ہیں اور شک میں پڑ جاتے ہیں۔مثلاً ابراہیم علیہ السلام کو آگ نے نہیں جلایا۔یہ امر بھی ایسا ہے جیسا شق القمر کے متعلق۔خدا خوب جانتا ہے کہ اس حد تک آگ جلاتی ہے اور ان اسباب کے پیدا ہونے سے فرو ہو جاتی ہے۔اگر ایسا مصالحہ ظاہر ہو جاوے یا بتلا دیا جاوے، تو فی الفور مان لیں گے۔لیکن ایسی صورت مین ایمان بالغیب اور حسن ظن کا لطف اور خوبی کیا ظاہر ہو گی۔ہم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ خدا خلق اسباب نہیں کرتا، مگر بعض اسباب ایسے ہوتے ہیں کہ نظر آتے ہیں اور بعض اسباب نظر نہیں آتے۔غرض یہ ہے کہ خدا کے افعال گوناگوں ہیں۔خدا تعالیٰ کی قدرت کبھی درماندہ نہیں ہوتی اور وہ نہیں تھکتا وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ (يس:80) أَفَعَيِينَا بِالخَلْقِ الْأَوَّلِ (ق: 16) اس کی شان ہے اللہ تعالیٰ کی بے انتہا قدرتوں اور افعال کا کیسا ہی صاحب عقل اور علم کیوں نہ ہو ، اندازہ نہیں کر سکتا۔بلکہ اس کو اظہار عجز کرنا پڑتا ہے۔مجھے ایک واقعہ یاد ہے۔ڈاکٹر خوب جانتے ہیں۔عبد الکریم نام ایک شخص میرے پاس آیا۔اس کے پیٹ کے اندر ایک رسولی تھی۔جو پاخانہ کی طرف بڑھتی جاتی تھی۔ڈاکٹروں نے اسے کہا کہ اس کا کوئی علاج نہیں ہے اس کو بندوق مار کر مار دینا چاہئے۔الغرض بہت سے امراض اس قسم کے ہیں جن کی ماہیت ڈاکٹروں کو بخوبی معلوم نہیں 117