سیرة النبی ﷺ — Page 104
طائف کے واقعات میں ایک اہم واقعہ جو آپ صلی علیہ ظلم کی سیرت پر روشنی ڈالتا ہے یہ ہے حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول کریم صلی علیہ کم سے پوچھا کہ کیا آپ پر اُحد کے دن سے بھی زیادہ کوئی سخت دن آیا ہے ؟ اس پر آپ صلی علیہم نے فرمایا کہ مجھے جو تمہاری قوم کی طرف سے پہنچاوہ تو پہنچا ہی لیکن ان کی جانب سے سب سے تکلیف دہ عرفہ کا دن تھا جب میں ابن عبدیالیل بن عبد کلال کے پاس گیا۔جس چیز کا میں نے ارادہ کیا ہوا تھا اس کا انہوں نے جواب نہ دیا۔میں واپس اس حال میں لوٹا کہ میرے چہرے پر غم کے آثار تھے۔میں مسلسل چلتا رہا یہاں تک کہ قرن الثعالب مقام پر آپہنچا۔آپ فرماتے ہیں کہ اس جگہ آکر میں نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بادل کے ٹکڑے نے مجھ پر سایہ کیا ہوا ہے۔اور اس میں جبرائیل ہے۔جبرائیل نے مجھے پکارا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں قوم کی باتیں سن لیں اور ان کا رد عمل دیکھ لیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے کہ آپ ان ( طائف والوں) کے بارہ میں جو چاہیں اس کو حکم دیں۔چنانچہ پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے پکارا، مجھ پر سلامتی بھیجی اور عرض کی کہ آپ حکم فرما ئیں وہی ہو گا جو آپ چاہیں گے۔اگر آپ چاہیں تو میں ان پر دونوں پہاڑ گرادوں۔اس پر رسول کریم صلی علی کرم نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی اولاد میں سے ایسے لوگ پیدا کر دے گا جو کہ خدائے واحد کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہر ائیں گے (31) عتبہ اگر چہ مسلمان تو نہیں تھا لیکن نامعلوم کیوں انکو خیال آیا اور انہوں نے آنحضور ملی ی کیم کو ایک طشتری انگوروں کی اپنے ایک عیسائی غلام عد اس کے ہاتھ بھیجی۔آنحضور صلی الیم نے کچھ دیر اس جگہ قیام کیا اور پھر واپس مکہ کا سفر جاری رکھا۔طائف اور مکہ کے درمیان نخلہ کے مقام پر جنات کے ایک گروہ کے آپ صلی ایم کی خدمت میں حاضر ہونے کے واقعات بھی تاریخ میں مذکور ہیں۔بہر حال آپ صلی علیم نے ملکہ کے قریب پہنچ کر عرب کے دستور کے مطابق مکہ میں داخلہ کے لئے ایک عرب سردار مطعم بن عدی کی پناہ حاصل کی جسکے بعد آپ مکہ میں داخل ہوئے۔(32) مکہ میں قحط : آنحضور صلی ا م کو اگر چہ ہر طرف سے مخالفت اور تکذیب کا سامنا تھا لیکن آپ صلی یہ تم اپنی قوم کو ہر حال میں عذاب عظیم سے بچا لینا چاہتے تھے۔سابقہ اقوام کو جس طرح بعض عارضی مصائب نے ایمان کی دولت سے مالا مال کیا اسی طرح آپ ملی ایم کی بھی خدا تعالیٰ سے یہ دعا تھی کہ اس قوم پر بھی کچھ ایسے حالات پیدا ہوں کہ انکی 104