سیرة النبی ﷺ — Page 105
توجہ دین کی طرف ہو۔چنانچہ اس دعا کے نتیجہ میں مکہ اور اسکے گردو نواح میں سات سال تک قحط پڑا۔اس کے متعلق سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ایک نوع تو یہی کہ جو دعائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خدائے تعالیٰ نے آسمان پر اپنا قادرانہ تصرف دکھلایا اور چاند کو دو ۲ ٹکڑے کر دیا۔دوسرے وہ تصرف جو خدائے تعالیٰ نے جناب ممدوح کی دعا سے زمین پر کیا اور ایک سخت قحط سات برس تک ڈالا۔یہاں تک کہ لوگوں نے ہڈیوں کو پیس کر کھایا“ (روحانی خزائن جلد 2 ، سرمہ چشمہ آریہ - حاشیہ صفحہ 64) احادیث کی کتب میں بھی ان دعاؤں کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔عن عبدالله بن مسعود رضي الله عنه قال ان سنة النبي صلى الله عليه وسلم لما رأى من الناس إدبارا، قال: (اللهم سبع كسبع يوسف)۔فأخذتهم حصت كل شيء، حتى أكلوا الجلود والميتة والجيف (33) حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ا یم نے جب ( قبول دعوت اسلام سے) لوگوں کو پیچھے ہٹتے دیکھا تو ( اللہ سے دعا کی : ”اے اللہ ! (ان پر سات برس ( قحط ڈال دے) جیسا کہ یوسف کے عہد میں ) سات برس تک ( مسلسل قحط رہا تھا)۔“ اس قحط نے انھیں آلیا۔یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس کے بعد ابو سفیان (جو اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے ) آپ صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اے محمد ! آپ تو اللہ کی بندگی اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں اور بے شک یہ آپ صلی علیہم کی قوم کے لوگ ( ہیں جو مارے بھوک سے ) مرے جاتے ہیں۔آپ صلی یہ تم اللہ سے ان کے لیے دعا کیجیے۔چنانچہ آپ صلی علیہ ظلم نے انکے لئے دعا کی اور ابھی دعا ختم نہ ہوئی تھی کہ بادل آگئے اور موسلا دار بارش شروع ہو گئی اور مکہ کی وادیاں پانی سے بھر گئیں۔اتنی بارش ہوئی کہ بخاری میں روایت ہے کہ حضرت انس کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! ایک ہفتہ ہم نے آفتاب ( کی شکل) نہیں دیکھی تھی پھر آئندہ جمعہ میں ایک شخص اسی دروازے سے (مسجد میں حاضر ہوا اور (اس وقت) رسول اللہ صلی علی کم کھڑے ہوئے (جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے پس وہ شخص آپ صلی اللہ ظلم کے سامنے کھڑا ہو گیا اور اس نے عرض کی کہ یارسول اللہ !(لوگوں کے مال ( پانی کی کثرت سے ) خراب ہو گئے اور راستے بند ہو گئے لہذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ بارش کو روک دے۔پس رسول اللہ صلی الیم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، اس کے بعد کہا: ”اے اللہ ! ہمارے آس پاس بارش برسا اور ہم پر نہ برسا، 105