سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 54 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 54

الله لصفة الرحيمية والأحمدية ليتم قوله آخرين منهم ولا راد للإرادات الربانية۔وليتم حقيقة المظاهر النبوية وهذا هو وجه تخصيص صفة الرحمانية والرحيمية بالبسملة۔الله الذي ليدل على اسمى محمد وأحمد ومظاهرهما الآتية۔أعنى الصحابة ومسيح كان آتيا في حلل الرحيمية والأحمدية اعجاز المسیح، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 115،114) اللہ تعالیٰ نے جس حقیقت کو سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام پر ظاہر فرمایا ہے اس حقیقت کو خدا تعالیٰ نے پہلے بزرگان اُمت پر بھی منکشف فرمایا تھا۔جو کتب میں درج ہے۔مثلاً حضرت علی کا قول ہے يُظهِرُ صاحِبَ الراية المحمدِيّةِ وَ دَولَةِ الاَحمدِيةِ (9) حضرت مجدد الف ثانی فرماتے ہیں میں ایک عجیب بات کہتا ہوں کہ آنحضرت صلیا ایلم کے زمانہ رحلت سے ایک ہزار چند سال بعد ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ حقیقت محمدی اپنے مقام سے عروج فرمائے گی اور حقیقت کعبہ میں رسائی پاکر اسکے ساتھ متحد ہو جائے گی۔اس وقت حقیقت محمدی کا نام حقیقت احمد کی ہو جائے گا۔(10) شان احمد را که داند جز خداوند کریم آنچنان از خود جدا کز میاں افتاد میم رضاعت و ایام طفولیت احمد کی شان کو سوائے خداوند کریم کے کون جان سکتا ہے وہ اپنی خودی سے اس طرح الگ ہو گیا کہ میم در میان سے گر گیا۔سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس بارہ میں فرماتے ہیں۔”ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑا حصہ عمر کا جو چالیس برس ہے بیکسی اور پریشانی اور یتیمی میں بسر کیا تھا کسی خویش یا قریب نے اس زمانہ تنہائی میں کوئی حق خویشی اور قرابت کا ادا نہیں کیا تھا یہاں تک کہ وہ روحانی بادشاہ اپنی صغر سنی کی حالت میں لاوارث بچوں کی طرح بعض بیابان نشین اور خانہ بدوش عورتوں کے حوالہ کیا گیا اور اسی بے کسی اور غریبی کی حالت میں اس سید الا نام نے شیر خوارگی کے دن پورے کئے اور جب کچھ سن تمیز پہنچا تو یتیم اور بے کس بچوں کی طرح جن کا دنیا میں 54