سیرة النبی ﷺ — Page 50
کی دن رات اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ و بکاء اور طلب استعانت اور دعا میں گزرتی تھی۔اگر کوئی شخص آپ کی اس زندگی کے بسر اوقات پر پوری اطلاع رکھتا ہو ، تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ جو تضرع اور زاری آپ نے اس کی زندگی میں کی وہ کبھی کسی عاشق نے اپنے محبوب و معشوق کی تلاش میں کبھی نہیں کی اور نہ کر سکے گا۔پھر آپ کی تضرع اپنے لیے نہ تھی۔بلکہ یہ تضرع دنیا کی حالت کی پوری واقفیت کی وجہ سے تھی۔خدا پرستی کا نام و نشان چونکہ مٹ چکا تھا۔اور آپ کی روح اور خمیر میں اللہ تعالیٰ میں ایمان رکھ کر ایک لذت اور سرور آچکا تھا۔اور فطر تا دنیا کو اس لذت اور محبت سے سرشار کرنا چاہتے تھے۔ادھر دنیا کی حالت کو دیکھتے تھے تو ان کی استعدادیں اور فطرتیں عجیب طرز پر واقعہ ہو چکی تھیں اور بڑے مشکلات اور مصائب کا سامنا تھا۔غرض دنیا کی اس حالت پر آپ گریہ وزاری کرتے تھے اور یہاں تک کرتے تھے کہ قریب تھا کہ جان نکل جاتی۔اسی کی طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔لَعَلَّكَ بَاخِعُ نَفْسَك أَلَّا يَكُونُوا مُومِنينَ (الشعراء: 4) یہ آپ کی متضر عانہ زندگی تھی۔اور اسم احمد کا ظہور تھا۔اس وقت آپ ایک عظیم الشان توجہ میں پڑے ہوئے تھے۔اس توجہ کا ظہور مدنی زندگی اور اسم محمد کی تجلی کے وقت ہوا“ مظہر رحمانیت و رحیمیت (ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 423) آپ نے اسم محمد کو صفت رحمانیت کا مظہر اور اسم احمد کو صفت رحیمیت کا مظہر قرار دیا ہے۔رحمان جلال کو ظاہر کرتا ہے اور رحیم جمال کا مظہر ہے۔اس لطیف نکتہ کو آپ نے نہایت وضاحت و صراحت سے بیان فرمایا ہے۔”یہی وجہ ہے کہ احمد کا نام مظہر جمال ہے اور اس کے مقابل پر محمد کا نام مظہر جلال ہے۔وجہ یہ کہ اسم محمد میں ستر محبوبیت ہے کیونکہ جامع محامد ہے اور کمال درجہ کی خوبصورتی اور جامع المحامد ہونا جلال اور کبریائی کو چاہتا ہے۔لیکن اسم احمد میں سر عاشقیت ہے۔کیونکہ حامدیت کو انکسار اور عشقی تذلل اور فروتنی لازم ہے۔اسی کا نام جمالی حالت ہے اور یہ حالت فروتنی کو چاہتی ہے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں شانِ محبوبیت بھی تھی جس کا اسم محمد مقتضی ہے۔کیونکہ محمد ہو نا یعنی جامع جميع محامد ہو ناشان 50