سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 45 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 45

گویا مسلمان لوگ کسی رات کو اتفاق کر کے مسیحی کتب خانوں میں جا گھسے اور اپنی طرف سے بر بناس کی انجیلوں میں جابجا محمد نبی نام درج کر دیا یا خود یونانی یا عبرانی زبانوں میں اپنی طرف سے انجیل برنباس بنا کر اور کئی ہزار نسخے اس کے لکھ کر پوشیدہ طور پر جبکہ عیسائی سوتے تھے وہ کتابیں ان کے کتب خانوں میں رکھ آئے لیکن ایک انگریز فاضل عیسائی جس نے کچھ تھوڑا عرصہ ہوا قرآن شریف کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے اس نے اپنے دیباچہ میں اس تقریب کے بیان میں کہ انجیل برنباس میں پیش گوئی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں موجود ہے یہ قصہ تحریر کیا ہے کہ برنباس کی انجیل پوپ پنجم کے کتب خانہ میں تھی اور ایک راہب جو اس پوپ کا دوست تھا اور مدت سے اس انجیل کی تلاش میں تھا۔وہ پوپ کی الماری میں جبکہ پوپ سویا ہوا تھا اس انجیل کو پا کر بہت خوش ہوا اور کہا کہ یہ میری وہ مراد ہے جو مدت کے بعد پوری ہوئی اور اس انجیل کو اپنے دوست پوپ کی اجازت سے لے گیا اور نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھلا کھلا انجیل میں لکھا ہوا دیکھ کر مسلمان ہو گیا پس اس فاضل انگریز کی اس تحریر سے جو ہمارے پاس موجود ہے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ یہ کتاب پوپوں کے کتب خانوں میں چاروں انجیلوں میں شامل کر کے عزت کے ساتھ رکھی جاتی تھی تبھی تو ایسے ایسے بزرگ اور فاضل راہب اس انجیل کو پڑھ کر مسلمان ہوتے تھے اس انگریز کا نام جارج سیل صاحب ہے جو اکابر علماء عیسائیوں سے ہے ان کا ترجمہ قرآن شریف جو ان کی طرف سے شائع ہو کر مطبع لنڈن فریڈرک وارن اینڈ کمپنی میں چھپا ہے اس کے پہلے دیباچہ میں مؤلف موصوف نے یہ عجیب تذکرہ کہ ایک بزرگ راہب انجیل بر بناس پڑھ کر اور اس میں پیشگوئی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کھلے کھلے طور پر پاکر مسلمان ہو گیا تھا اس طور سے (جو نیچے لکھا جاتا ہے) بیان کیا ہے۔فرامیر مینو جو ایک عیسائی مانک یعنی ایک بزرگ راہب تھا وہ بیان کرتا ہے کہ اتفاقیہ مجھ کو ایک تحریر آبرنس صاحب کی (جو ایک فاضل مسیحیوں سے ہے) منجملہ اس کی اور تحریروں کے جن میں وہ پولوس کے بر خلاف ہے نظر سے گزری اس تحریر میں آبرنس صاحب (جو پولوس عیسائی کے مخالف ہیں) اپنے بیان کی صداقت کی بابت انجیل برنباس کا حوالہ دیتے ہیں۔تب میں اس بات کا نہایت شائق ہوا کہ انجیل برنباس کو میں بھی دیکھوں اور اتفاقاً تقریب یہ نکل آئی کہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم نے پوپ پنجم کا مجھ سے اتحاد و دوستانہ کرادیا۔ایک روز جبکہ پوپ موصوف کے کتب خانہ میں ہم دونوں اکٹھے تھے اور پوپ صاحب سو گئے تھے میں نے دل بہلانے کو ان کی کتابوں کا ملاحظہ کرنا شروع کیا سو 45