سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 28 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 28

لئے حضرت ہاجرہ چند مرتبہ اس پہاڑ پر ادھر ادھر دوڑیں کہ شاید کوئی قافلہ ہو۔پہاڑ پر چڑھ کر گریہ وزاری کرنے لگیں۔یہ ایسا وقت تھا کہ ان کے پاس صرف ایک ہی بچہ تھا۔خاوند سے الگ تھیں۔دوسرا بچہ پیدا ہونے کی امید نہیں تھی۔گویا بیوہ کی مانند آپ کا حال تھا۔آپ کی گریہ وزاری پر فرشتہ نے آواز دی ہاجرہ !ہاجرہ!! جب آپ نے ادھر ادھر دیکھا، تو کوئی شخص نظر نہ آیا۔بچہ کے پاس جب آئیں تو دیکھا کہ اس کے پاس پانی کا چشمہ بہ رہا ہے۔گویا اللہ تعالیٰ نے مردہ سے ان کو زندہ کر دیا۔حضرت نبی کریم فرماتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چشمہ کا پانی نہ روکتا، تو وہ تمام ملک میں پھیل جاتا اس قصہ کے بیان کرنے سے یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی ایسی جگہوں پر جہاں آب و دانہ کچھ نہ ہو۔اس طرح اپنی قدرت کے کرشمے دکھایا کرتا ہے، چنانچہ پانی کہ اس پہلے کرشمہ نے حضرت اسماعیل گوزندہ کیا، مگر وہ پانی جو حضرت نبی کریم کے ذریعہ سے پھیلایا گیا، اس کی شان میں فرمایا۔اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الحدید : 18) گویا اس پانی سے دنیا زندہ ہوئی۔مدعا یہ ہے کہ جہاں ظاہری اسباب موجود نہ تھے۔اللہ تعالیٰ نے بچاؤ کی ایک راہ نکال دی اور اللہ تعالیٰ جو یہ فرماتا ہے کہ اس کے امر سے زمین و آسمان قائم ہیں۔تو غور کرو کہ وہ جنگل جہاں اس قدر گرمی پڑتی تھی اور جہاں انسان کا نام ونشان نہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسا بابرکت بنا دیا کہ کروڑہا مخلوق وہاں جاتی ہے اور ہر ملک اور ہر قوم کے لوگ وہاں موجود ہوتے ہیں۔وہ میدان جہاں حج کے لئے لوگ جمع ہوتے ہیں، وہی جگہ ہے جہاں نہ دانہ تھانہ پانی“ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن جلد 1 صفحہ 172-173) حضور نے مندرجہ بالا فرمودات میں جس واقعہ کا ذکر فرمایا ہے ایک مشہور واقعہ ہے جو قرآن کریم احادیث اور کچھ فرق کے ساتھ بائیبل میں بھی مذکور ہے۔اور آپ نے اس ارشاد میں اعتراض یا الزام کا رنگ اختیار کئے بغیر یہ حقیقت بیان فرما دی ہے کہ قرآن کریم نے جس رنگ میں اس واقعہ کا ذکر فرمایا ہے وہی درست اور انبیاء علیم السلام کے شایان شان ہے۔بائیبل جس حقیقت کو درست رنگ میں بیان کرنے سے قاصر ہے۔اس کی مزید تفصیل میں جانے سے پہلے اس بارے میں قرآنی آیات درج کی جاتی ہیں تاکہ یہ معاملہ سمجھنے میں آسانی ہو۔فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ ۖ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَى قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصَّابِرِينَ فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَا 28