سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 239 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 239

طعام: آپ کا ہر گز ارادہ نہ تھا کہ اس سے باہر آویں آخر خدا نے اپنی مصلحت سے آپ کو خود باہر نکالا اور آپ کے ذریعے سے دنیا پر اپنے نور کو ظاہر کیا“ (ملفوظات[2003 ایڈیشن] جلد 3 صفحہ 619) طیبین اور طاہرین کا سیر ہو کر کھانا اس قسم کا سیر ہونا نہیں ہے جو ان لوگوں کا ہوا کرتا ہے جن کے حق میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ایسے کھاتے ہیں جیسے چار پائے کھایا کرتے ہیں اور آگ ان کا ٹھکانا ہے۔آنحضرت علی الم کا کسی وقت سیر ہو کر کھانا اور ہی نور ہے اور اگر اس سیری کو ان لوگوں کی طرف نسبت دی جائے جن کا اصل مقصد انتطاذ اور تمتع ہے اور جنکی نگاہیں نفسانی شہوات کے استیفا تک محدود ہیں تو اس سیری کو ہم ہر گز سیری نہیں کہہ سکتے۔سیری کی تعریف میں پاکوں اور مقدسوں کی اصطلاح اور ناپاکوں اور شکم پرستوں کی اصطلاح الگ الگ ہے۔اور پاک لوگ اسی قدر غذا کھانے کا نام سیری رکھ لیتے ہیں کہ جب فی الجملہ دقت جوع دور ہو جائے۔اور حرکات و سکنات پر قوت حاصل ہو جاوے۔غرض مومن کی سیری یہی ہے کہ اس قدر غذا کھائے جو اسکی پشت کو قائم رکھے اور حقوق واجبہ ادا کر سکے پس جو سید المومنین ہے اس کی سیری کا قیاس عام لوگوں کی سیری پر قیاس مع الفارق ہے۔اسی طرح بہت لوگوں نے آنحضرت مئی یا کم کی شان عظیم کو نہیں سمجھا اور الفاظ کے مورد استعمال کو ملحوظ نہیں رکھا اور اپنے تئیں غلطی میں ڈال لیا۔آنحضرت مالم کا کسی وقت یہ فرمانا کہ میں سیر ہو گیا ہوں ہر گز اس قول کا مرادف نہیں کہ جو دنیا داروں کے منہ سے نکلتا ہے جنہوں نے اصل مقصد اپنی زندگی کا کھانا ہی سمجھا ہوا ہوتا ہے۔غرض پاکوں کا کام اور کلام پاکوں کے مراتبہ عالیہ کے موافق سمجھنا چاہیے اور ان کے امور کا دوسروں پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے وہ در حقیقت اس عالم سے باہر ہوتے ہیں گو بصورت اسی عالم کے اندر ہوں“ (مکتوبات احمد یہ جدید ایڈیشن جلد 1 صفحہ 538،537 مکتوب نمبر 20 بنام میر عباس علی شاہ صاحب۔21 جون 1883) رہن سہن میں سادگی: ”ایک دفعہ حضرت عمر آنحضرت علی ایم کے پاس آئے۔آپ اندر ایک حجرہ میں تھے۔حضرت عمرؓ نے اجازت چاہی۔آپ نے اجازت دے دی۔حضرت عمر نے آکر دیکھا کہ صف کھجور کے پتوں کی آپ 239