سیرة النبی ﷺ — Page 240
نے بچھائی ہوئی ہے اور اس پر لیٹنے کی وجہ سے پیٹھ پر پتوں کے داغ لگے ہوئے ہیں گھر کی جائداد کی طرف حضرت عمر نے نظر کی تو دیکھا کہ ایک گوشہ میں تلوار لٹکی ہوئی ہے۔یہ دیکھ کر ان کے آنسو جاری ہو گئے۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے پوچھا کہ اے عمر تو کیوں رویا؟ عرض کی کہ خیال آتا ہے کہ قیصر و کسری جو کہ کا فر ہیں ان کے لئے کس قدر تنعم اور آپ کے لئے کچھ بھی نہیں۔فرمایا۔میرے لئے دنیا کا اسی قدر حصہ کافی ہے کہ جس میں حرکت کر سکوں۔میری مثال یہ ہے کہ جیسے ایک مسافر سخت گرمی کے دنوں میں اونٹ پر جارہا ہو اور جب سورج کی تپش سے بہت تنگ آوے تو ایک درخت کو دیکھ کر اس کے نیچے ذرا آرام کر لیوے اور جو نہی کہ ذرا پسینہ خشک ہو پھر اٹھ کر چل پڑے۔تو یہ اسوۂ حسنہ ہے جو کہ اسلام کو دیا گیا ہے۔دنیا کو اختیار کرنا بھی گناہ ہے اور مومن کی زندگی اضطراب کے ساتھ گذرتی ہے “ (ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 2 صفحہ 660) ہم تو بستے ہیں فلک پر اس زمیں کو کیا کریں آسماں کے رہنے والوں کو زمیں سے کیا نقار پیغمبر خداصلی نام کا کوئی خاص ایسا لباس نہ تھا جس سے آپ لوگوں میں متمیز ہو سکتے۔بلکہ ایک دفعہ ایک شخص نے ابو بکر کو پیغمبر جان کر ان سے مصافحہ کیا اور تعظیم و تکریم کرنے لگا آخر ابو بکر اٹھ کر پیغمبر خدا ملیالم کو پنکھا جھلنے لگ گئے اور اپنے قول سے نہیں بلکہ فعل سے بتلا دیا کہ آنحضرت ملا ہم یہ ہیں میں تو خادم ہوں۔جب انسان خدا کی بندگی کرتا ہے تو اسے رنگدار کپڑے پہنے ، ایک خاص وضع بنانے اور مالا وغیرہ لٹکا کر چلنے کی کیا ضرورت ہے ایسے لوگ دنیا کے کتے ہوتے ہیں۔خدا کے طالبوں کو اتنی ہوش کہاں کہ وہ خاص اہتمام پوشاک اور وردی کا کریں۔وہ تو خلقت کی نظروں سے پوشیدہ رہنا چاہتے ہیں۔بعض بعض کو خدا تعالیٰ اپنی مصلحت سے باہر کھینچ لاتا ہے کہ اپنی الوہیت کا ثواب دیوے۔آنحضرت لام کو ہر گز خواہش نہ تھی کہ لوگ آپ کو پیغمبر کہیں اور آپ کی اطاعت کریں اور اسی لیے ایک غار میں جو قبر سے زیادہ تنگ تھی جا کر آپ عبادت کیا کرتے تھے اور آپ کا ہر گز ارادہ نہ تھا کہ اس سے 240